انسان ایک فقاری (یعنی ریڑھ کی ہڈی رکھنے والا) نوع ہے- تمام فقاری انواع میں گوشت اور مسلز وغیرہ ایک اندرونی ڈھانچے سے منسلک ہوتے ہیں اور یہ ڈھانچہ مسلز کو سپورٹ فراہم کرتا ہے- اگر ہمارے جسم میں ہڈیاں نہ ہوتیں تو ہم زندہ نہیں رہ پاتے-
ہمارے جسم میں عام طور پر 206 ہڈیاں ہوتی ہیں اگرچہ کچھ افراد میں ان کی تعداد مختلف بھی ہو سکتی ہیں- مثال کے طور پر لگ بھگ بارہ فیصد لوگوں میں پسلیوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے یعنی ان میں دو اضافی پسلیاں ہوتی ہیں جبکہ کچھ لوگوں میں عام لوگوں کی نسبت دو پسلیاں کم ہوتی ہیں- ہمارے دونوں پاؤں میں کل 52 ہڈیاں ہوتی ہیں جبکہ ریڑھ کی ہڈی میں 33 مہرے ہوتے ہیں- کل ملا کر جسم کی آدھے سے زیادہ ہڈیاں ہمارے ہاتھوں اور پاؤں میں ہوتی ہیں
ہڈیوں کے جوڑ جس قدر لچکدار ہوں اسی قدر ہمیں حرکت کرنے میں آسانی ہوتی ہے- ہاتھوں اور انگلیوں کے جوڑ نسبتاً زیادہ لچکدار ہوتے ہیں جو ہمیں انتہائی پیچیدہ حرکات کرنے کی قابلیت فراہم کرتے ہیں- ان حرکات کا کنٹرول دماغ میں ہوتا ہے اور دماغ کو آکسیجن خون کے سرخ خلیوں کی مدد سے فراہم کی جاتی ہے- یہ سرخ خلیے بھی ہڈیوں کے گودے میں بنتے ہیں- ہمیں سننے کے لیے بھی ہڈیوں کی ضرورت پڑتی ہے- ہمارے کان میں تین انتہائی چھوٹی ہڈیاں ایک دوسرے سے منسلک ہوتی ہیں اور کان کے پردے کی حرکات کو اندرونی کان میں منتقل کرتی ہیں
ہڈیوں کا تقریباً ستر فیصد میٹٰیریل منرلز پر مشتمل ہوتا ہے- یہ منرلز کولاجن نامی ایک پروٹین کے ساتھ مل کر ہڈیاں بناتے ہیں اور ہڈیوں کو مضبوطی فراہم کرتے ہیں- چنانچہ ایک اوسط بالغ کے جسم کا لگ بھگ نو سے دس کلو وزن ہڈیوں کی وجہ سے ہوتا ہے- یہ ہڈیاں اتنی مضبوط ہوتی ہیں کہ لگ بھگ ایک ٹن وزن برداشت کر سکتی ہیں- موت کے بعد بھی ہمارے ٹشو تو جلد ہی گل سڑ جاتے ہیں لیکن ہڈیاں ہزاروں سالوں تک جوں کی توں موجود رہتی ہیں
جانوروں میں ہڈیوں کا ارتقاء کیسے ہوا؟ یہ سمجھنے کے لیے ہمیں آج سے ڈیڑھ ارب سال ماضی میں جانا ہو گا- اُس وقت ابھی کثیر خلوی جانور بھی ارتقاء پذیر نہیں ہوئے تھے- اس وقت ٹیکٹانک پلیٹس کی حرکات اور ان کے آپس میں رگڑ کھانے کی وجہ سے کئی کلومیٹر نیچے کی چٹانیں زمین کی سطح پر پہاڑوں کی شکل میں نمودار ہو رہی تھیں- ان چٹانوں پر بارش اور ہوا کے کٹاؤ سے بہت سے منرلز خارج ہو رہے تھے جو بارش کے پانی سے دریاؤں کے راستے سمندر میں شامل ہو رہے تھے- ان میں خاص طور پر کیلشیم کاربونیٹ کی بہتات تھی، اور یہی وہ منرل ہے جو بعد میں جانوروں کے ڈھانچوں میں استعمال ہونے لگا-
جب کثیر خلوی جانور پہلے پہل ارتقاء پذیر ہوئے تو ان میں کوئی ہڈی موجود نہیں تھی اور ان کے جسم صرف نرم ٹشوز پر ہی مشتمل تھے- چونکہ زندگی کا آغاز سمندروں میں ہوا اس لیے نرم ٹشو والے جانوروں کے لیے پانی میں فلوٹ کرنا زیادہ مشکل نہیں تھا- لیکن آج سے چھپن کروڑ سال پہلے انواع دو حصوں میں تقسیم ہونے لگیں اور دو مختلف ڈھانچوں پر مشتمل جانور ارتقاء پذیر ہونے لگے- ان میں سے ایک قسم کے جانوروں کے جسم بے ڈھنگے تھے لیکن ان کے نرم ٹشوز پر سخت خول تھے جو ان ٹشوز کو محفوظ رکھتے تھے- اس قسم کی انواع ارتقاء پذیر ہو کر آج کل کے حشرات میں تبدیل ہو گئیں جن کے جسم کے نرم ٹشو جسم کے اندر ہوتے ہیں اور باہر سخت خول یا بیرونی ڈھانچہ ہوتا ہے جس کے ساتھ مسلز منسلک ہوتے ہیں- اس بیرونی ڈھانچے کو ایکسوسکیلیٹن (exoskeleton) کہا جاتا ہے
ان کے ساتھ ہی ساتھ ایک اور قسم کے نرم ٹشو والے جانور بھی ارتقا پذیر ہو رہے تھے جن کے جیلی کی طرح نرم ٹشو کے اندر قدرے سخت ٹشو بننے لگے تھے- آہستہ آہستہ یہ سخت ٹشو کارٹیلیج یعنی نرم ہڈی میں تبدیل ہونے لگے جس کے ساتھ جسم کے مسل منسلک ہونے لگے- ایسے سٹرکچرز سے جانوروں کے لیے پانی میں حرکت کرنا اور تیزی سے ادھر ادھر مڑنا ممکن ہو گیا- یہ سٹرکچرز ہڈیوں کی ابتدائی شکل تھے
ان سخت سٹرکچرز یعنی ہڈیوں کی بدولت آہستہ آہستہ جانوروں کے جسم کے مختلف حصوں میں نئی صلاحیتیں پیدا ہونے لگیں- جانوروں میں جبڑے ارتقاء پذیر ہوئے جن سے جانور غذا کو پکڑنے اور نوچنے کے قابل ہو گئے- آہستہ آہستہ جسم کے سخت ٹشوز میں منرلز کی مقدار میں بھی اضافہ ہونے لگا- یوں ریڑھ کی ہڈی کا ارتقاء ہوا اور فقاری (یعنی ریڑھ کی ہڈی والے) جانوروں کا اندرونی ڈھانچہ ترتیب پایا جو کچھ تبدیلیوں کے ساتھ کم و بیش ہر فقاری نوع میں آج بھی موجود ہے
نرم ٹشوز کو سپورٹ کرنے کے مختلف انداز
مختلف جانداروں میں نرم ٹشوز یعنی مسلز اور اندرونی اعضاء کو سپورٹ کرنے کے لیے مختلف طریقے ارتقاء پذیر ہوئے- مثلاً پودوں میں لگانن اور سیلولوز جیسے پیچیدہ مالیکیولز کا ارتقاء ہوا جس سے پودے عمودی طور پر بڑھنے کے قابل ہوئے- کچھ سمندری جانوروں میں کیلشیم سے بنے خول ارتقاء پذیر ہوئے جنہیں ہم آج گھونگھے اور سیپیاں کہتے ہیں- فقاری جانوروں میں منرلز کے سٹرکچرز جسم کے اندر ارتقاء پذیر ہوئے جنہیں ہم ہڈیاں کہتے ہیں- حشرات میں بیرونی خول ارتقاء پذیر ہوئے جو ان کے جسم کے نرم ٹشو کی حفاظت کرتے ہیں – یہ خول شوگر کے مالیکیولز کی لڑیوں پر مشتمل ہوتے ہیں جنہیں کائی ٹن (Chitin) کہا جاتا ہے- کائی ٹن کے مالیکیولز کا سٹرکچر سیلیولوز کے مالیکیولز کے سٹرکچرز سے ملتا جلتا ہے جو پودوں کے ٹھوس سٹرکچرز میں ہوتا ہے، لیکن کائی ٹن سیلیولوز سے زیادہ مضبوط سٹرکچر بناتا ہے-
بیرونی خول کی مضبوطی
اگر ہم کسی لوبسٹر کے خول کو خوردبین سے دیکھیں تو اس میں کائی ٹن کی کرسٹلز صاف طور پر دیکھی جا سکتی ہیں جو ایک دوسرے کے اوپر اس طرح سے جڑی ہوتی ہیں جیسے پلائی ووڈ کی مختلف تہیں ایک دوسرے سے جڑی ہوتی ہیں- ان نینوسٹرکچرز کی وجہ سے حشرات کا خول بہت مضبوط ہوتا ہے اور ان حشرات کا تمام تر وزن برداشت کر پاتا ہے- یہی وجہ ہے کہ حشرات اپنے وزن سے کہیں زیادہ بھاری چیزیں اٹھا کر لے جا سکتے ہیں
فقاری جانوروں میں بیرونی ڈھانچہ کیوں نہیں ہوتا
سوال یہ اٹھتا ہے کہ اگر بیرونی ڈھانچہ یعنی exoskeleton اس قدر مضبوط ہوتا ہے تو پھر تمام جانور اور انسان اس سے محروم کیوں رہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ بیرونی ڈھانچے کے جہاں بہت سے فوائد ہیں وہیں اس کے بہت سے نقصانات بھی ہیں- بیرونی ڈھانچے کا سب سے بڑا نقصان تو یہ ہوتا ہے کہ بیرونی ڈھانچے کے لیے مزید بڑا ہونا ممکن نہیں ہوتا- اس لیے جیسے ہی کسی کیڑے کا سائز کچھ بڑا ہوتا ہے، اسے بیرونی ڈھانچہ اتار کر پھینکنا پڑتا ہے اور اس کی جگہ نیا بیرونی ڈھانچہ تشکیل پاتا ہے- اسے molting یا کینچلی بدلنا کہا جاتا ہے- اس نئے ڈھانچے کی تشکیل میں کئی دن لگ سکتے ہیں اور اس دوران حشرات بالکل غیرمحفوظ ہوتے ہیں- بیرونی ڈھانچے میں ایک اور مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ مسلز صرف اس کی اندرونی سطح سے ہی منسلک ہو سکتے ہیں یعنی ڈھانچے کا صرف نصف حصہ مسلز کے منسلک ہونے کے لیے میسر ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ بیرونی ڈھانچے کی مضبوطی کی بھی ایک حد ہے- یہ بات درست ہے کہ چیونٹی کی ٹانگیں بے حد طاقتور ہوتی ہیں- لیکن اگر چیونٹی کا سائز گھوڑے جتنا ہو جائے تو اس کے اپنے مسلز بیرونی ڈھانچے کے وزن کی وجہ سے پچک جائیں گے اور چیونٹیاں زندہ نہیں رہ پائیں گی- اس کی وجہ یہ ہے کہ جیسے جیسے کسی بھی جانور کی لمبائی بڑھتی ہے، اس جانور کا وزن اس لمبائی کے مکعب یعنی کیوب کے تناسب سے بڑھتا ہے-
اس کے برعکس جب ہڈیاں جسم کے اندر ہوتی ہیں تو مسلز کو ہڈیوں کے ساتھ منسلک ہونے کے لیے زیادہ سرفیس ایریا میسر آتا ہے کیونکہ ہڈیوں کے چاروں طرف مسلز منسلک ہو سکتے ہیں۔ جیسے جیسے ہمارے مسلز بڑے ہوتے ہیں، ویسے ویسے ہڈیاں بھی بڑی اور مضبوط ہوتی جاتی ہیں- اس کے علاوہ جسم کے اکثر مسلز کو ہڈیوں کا بوجھ براہِ راست برداشت نہیں کرنا پڑتا
لیکن ہڈیوں کے بڑا ہونے کی بھی ایک حد ہے- جس جانور کا وزن جس قدر زیادہ ہو گا اسی قدر اس کی ہڈیوں کو بھی بڑا ہونا پڑے گا- ہاتھی کے وزن کا لگ بھگ تیرہ فیصد حصہ ہڈیوں پر مشتمل ہوتا ہے- اس وجہ سے ہاتھی زیادہ تیز حرکت نہیں کر سکتےٓ- اس کے برعکس چوہوں کے جسم کا صرف چار سے پانچ فیصد ہڈیوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ اس لیے ہاتھیوں کے مقابلے میں چوہوں کے مسلز ہڈیوں کی مناسبت سے زیادہ بڑے ہوتے ہیں جس وجہ سے چوہے زیادہ تیزی سے حرکت کر سکتے ہیں- انسانوں کے جسم کا لگ بھگ آٹھ فیصد حصہ ہڈیوں پر مشتمل ہوتا ہے اس لیے انسانوں کی حرکت کی شرح ہاتھیوں اور چوہوں کے درمیان کہیں ہوتی ہے- اگر ہماری ہڈیاں زیادہ وزنی ہوتیں تو ہم زیادہ طاقتور ہوتے لیکن ہماری حرکات اسی قدر سست رفتار ہو جاتیں-
آکسیجن کی فراہمی
بیرونی ڈھانچے کے ساتھ دوسرا بڑا مسئلہ تنفس کا ہے- اگر کوئی چیونٹی انسان جتنی بڑی ہو جائے تو وہ آکسیجن کی محرومی کی وجہ سے چند منٹوں میں ہی مر جائے گی- حشرات میں خون نہیں ہوتا اور ان کے جسم میں آکسیجن کی ترسیل کا نظام محدود ہوتا ہے- حشرات کے جسم میں ایک گاڑھا مائع ہوتا ہے جسے ہیمولمف (Hemolymph) کہا جاتا ہے جس میں زیادہ تر امیون سیلز ہوتے ہیں- حشرات اپنے بیرونی ڈھانچے میں موجود چھوٹے چھوٹے سوراخوں کے ذریعے براہِ راست آکسیجن جذب کرتے ہیں- یہ آکسیجن اندرونی ٹیوب نما سٹرکچرز کے ذریعے براہِ راست مسلز تک پہنچتی ہے- ان ٹیوبز میں آکسیجن کتنے فاصلے تک پہنچ سکتی ہے اس کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ فضا میں آکسیجن کا تناسب کتنا ہے- ماضی بعید میں ڈریگن فلائز (چار پروں والے حشرات جو اکثر پانی کے پاس پائے جاتے ہیں) اتنی بڑی ہوتی تھیں کہ فاسلز میں ان کی لمبائی ساٹھ سینٹی میٹر تک بھی دیکھی گئی ہے- اس کی وجہ یہ ہے کہ اس زمانے میں ہوا میں آکسیجن کا تناسب لگ بھگ 35 فیصد تھا- لیکن اب ہوا میں آکسیجن کی شرح 21 فیصد رہ گئی ہے اس لیے اب اس قدر بڑے حشرات کا زندہ رہنا ممکن نہیں رہا
جسم میں لچک
اس کے علاوہ بیرونی ڈھانچے کا ایک نقصان یہ بھی ہے کہ ایسے جانوروں کے مسلز خواہ کتنے ہی مضبوط ہوں، ان کے جسم میں لچک بہت کم ہوتی ہے- اس لیے بیرونی ڈھانچہ بہت بڑے حشرات کو انتہائی سست رفتار بنا دیتا ہے- اگر چیونٹیاں انسانوں جتنی بڑی ہوتیں تو ان کی رفتار 'چیونٹیوں کی رفتار' سے بھی کہیں کم ہوتی اور ان کے جسم اپنے ہی وزن سے پچک جاتے- اندرونی ڈھانچوں کی وجہ سے ہمارے جسم میں حشرات کی نسبت بہت زیادہ لچک پائی جاتی ہے جس وجہ سے فقاری جانور خطرات کا بہتر مقابلہ کر پاتے ہی ہیں









