Ads

   

Tuesday, 5 December 2023

Why are our bones inside the body?

 
ہماری ہڈیاں جسم کے اندر کیوں ہوتی ہیں


 
انسان ایک فقاری (یعنی ریڑھ کی ہڈی رکھنے والا) نوع  ہے- تمام فقاری انواع میں گوشت اور مسلز وغیرہ ایک اندرونی ڈھانچے سے منسلک ہوتے ہیں اور یہ ڈھانچہ مسلز کو سپورٹ فراہم کرتا ہے- اگر ہمارے جسم میں ہڈیاں نہ ہوتیں تو ہم زندہ نہیں رہ پاتے-
 
ہمارے جسم میں عام طور پر 206 ہڈیاں ہوتی ہیں اگرچہ کچھ افراد میں ان کی تعداد مختلف بھی ہو سکتی ہیں- مثال کے طور پر لگ بھگ بارہ فیصد لوگوں میں پسلیوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے یعنی ان میں دو اضافی پسلیاں ہوتی ہیں جبکہ کچھ لوگوں میں عام لوگوں کی نسبت دو پسلیاں کم ہوتی ہیں- ہمارے دونوں پاؤں میں کل 52 ہڈیاں ہوتی ہیں جبکہ ریڑھ کی ہڈی میں 33 مہرے ہوتے ہیں- کل ملا کر جسم کی آدھے سے زیادہ ہڈیاں ہمارے ہاتھوں اور پاؤں میں ہوتی ہیں
ہڈیوں کے جوڑ جس قدر لچکدار ہوں اسی قدر ہمیں حرکت کرنے میں آسانی ہوتی ہے- ہاتھوں اور انگلیوں کے جوڑ نسبتاً زیادہ لچکدار ہوتے ہیں جو ہمیں انتہائی پیچیدہ حرکات کرنے کی قابلیت فراہم کرتے ہیں- ان حرکات کا کنٹرول دماغ میں ہوتا ہے اور دماغ کو آکسیجن خون کے سرخ خلیوں کی مدد سے فراہم کی جاتی ہے- یہ سرخ خلیے بھی ہڈیوں کے گودے میں بنتے ہیں- ہمیں سننے کے لیے بھی ہڈیوں کی ضرورت پڑتی ہے- ہمارے کان میں تین انتہائی چھوٹی ہڈیاں ایک دوسرے سے منسلک ہوتی ہیں اور کان کے پردے کی حرکات کو اندرونی کان میں منتقل کرتی ہیں
ہڈیوں کا تقریباً ستر فیصد میٹٰیریل منرلز پر مشتمل ہوتا ہے- یہ منرلز کولاجن نامی ایک پروٹین کے ساتھ مل کر ہڈیاں بناتے ہیں اور ہڈیوں کو مضبوطی فراہم کرتے ہیں- چنانچہ ایک اوسط بالغ کے جسم کا لگ بھگ نو سے دس کلو وزن ہڈیوں کی وجہ سے ہوتا ہے- یہ ہڈیاں اتنی مضبوط ہوتی ہیں کہ لگ بھگ ایک ٹن وزن برداشت کر سکتی ہیں- موت کے بعد بھی ہمارے ٹشو تو جلد ہی گل سڑ جاتے ہیں لیکن ہڈیاں ہزاروں سالوں تک جوں کی توں موجود رہتی ہیں
ہڈیوں کا ارتقاء کیسے ہوا؟
جانوروں میں ہڈیوں کا ارتقاء کیسے ہوا؟ یہ سمجھنے کے لیے ہمیں آج سے ڈیڑھ ارب سال ماضی میں جانا ہو گا- اُس وقت ابھی کثیر خلوی جانور بھی ارتقاء پذیر نہیں ہوئے تھے- اس وقت ٹیکٹانک پلیٹس کی حرکات اور ان کے آپس میں رگڑ کھانے کی وجہ سے کئی کلومیٹر نیچے کی چٹانیں زمین کی سطح پر پہاڑوں کی شکل میں نمودار ہو رہی تھیں- ان چٹانوں پر بارش اور ہوا کے کٹاؤ سے بہت سے منرلز خارج ہو رہے تھے جو بارش کے پانی سے دریاؤں کے راستے سمندر میں شامل ہو رہے تھے- ان میں خاص طور پر کیلشیم کاربونیٹ کی بہتات تھی، اور یہی وہ منرل ہے جو بعد میں جانوروں کے ڈھانچوں میں استعمال ہونے لگا-
جب کثیر خلوی جانور پہلے پہل ارتقاء پذیر ہوئے تو ان میں کوئی ہڈی موجود نہیں تھی اور ان کے جسم صرف نرم ٹشوز پر ہی مشتمل تھے- چونکہ زندگی کا آغاز سمندروں میں ہوا اس لیے نرم ٹشو والے جانوروں کے لیے پانی میں فلوٹ کرنا زیادہ مشکل نہیں تھا- لیکن آج سے چھپن کروڑ سال پہلے انواع دو حصوں میں تقسیم ہونے لگیں اور دو مختلف ڈھانچوں پر مشتمل جانور ارتقاء پذیر ہونے لگے- ان میں سے ایک قسم کے جانوروں کے جسم بے ڈھنگے تھے لیکن ان کے نرم ٹشوز پر سخت خول تھے جو ان ٹشوز کو محفوظ رکھتے تھے- اس قسم کی انواع ارتقاء پذیر ہو کر آج کل کے حشرات میں تبدیل ہو گئیں جن کے جسم کے نرم ٹشو جسم کے اندر ہوتے ہیں اور باہر سخت خول یا بیرونی ڈھانچہ ہوتا ہے جس کے ساتھ مسلز منسلک ہوتے ہیں- اس بیرونی ڈھانچے کو ایکسوسکیلیٹن (exoskeleton) کہا جاتا ہے
ان کے ساتھ ہی ساتھ ایک اور قسم کے نرم ٹشو والے جانور بھی ارتقا پذیر ہو رہے تھے جن کے جیلی کی طرح نرم ٹشو کے اندر قدرے سخت ٹشو بننے لگے تھے- آہستہ آہستہ یہ سخت ٹشو کارٹیلیج یعنی نرم ہڈی میں تبدیل ہونے لگے جس کے ساتھ جسم کے مسل منسلک ہونے لگے- ایسے سٹرکچرز سے جانوروں کے لیے پانی میں حرکت کرنا اور تیزی سے ادھر ادھر مڑنا ممکن ہو گیا- یہ سٹرکچرز ہڈیوں کی ابتدائی شکل تھے
ان سخت سٹرکچرز یعنی ہڈیوں کی بدولت آہستہ آہستہ جانوروں کے جسم کے مختلف حصوں میں نئی صلاحیتیں پیدا ہونے لگیں- جانوروں میں جبڑے ارتقاء پذیر ہوئے جن سے جانور غذا کو پکڑنے اور نوچنے کے قابل ہو گئے- آہستہ آہستہ جسم کے سخت ٹشوز میں منرلز کی مقدار میں بھی اضافہ ہونے لگا- یوں ریڑھ کی ہڈی کا ارتقاء ہوا اور فقاری (یعنی ریڑھ کی ہڈی والے) جانوروں کا اندرونی ڈھانچہ ترتیب پایا جو کچھ تبدیلیوں کے ساتھ کم و بیش ہر فقاری نوع میں آج بھی موجود ہے
نرم ٹشوز کو سپورٹ کرنے کے مختلف انداز
مختلف جانداروں میں نرم ٹشوز یعنی مسلز اور اندرونی اعضاء کو سپورٹ کرنے کے لیے مختلف طریقے ارتقاء پذیر ہوئے- مثلاً پودوں میں لگانن اور سیلولوز جیسے پیچیدہ مالیکیولز کا ارتقاء ہوا جس سے پودے عمودی طور پر بڑھنے کے قابل ہوئے- کچھ سمندری جانوروں میں کیلشیم سے بنے خول ارتقاء پذیر ہوئے جنہیں ہم آج گھونگھے اور سیپیاں کہتے ہیں- فقاری جانوروں میں منرلز کے سٹرکچرز جسم کے اندر ارتقاء پذیر ہوئے جنہیں ہم ہڈیاں کہتے ہیں- حشرات میں بیرونی خول ارتقاء پذیر ہوئے جو ان کے جسم کے نرم ٹشو کی حفاظت کرتے ہیں – یہ خول شوگر کے مالیکیولز کی لڑیوں پر مشتمل ہوتے ہیں جنہیں کائی ٹن (Chitin) کہا جاتا ہے- کائی ٹن کے مالیکیولز کا سٹرکچر سیلیولوز کے مالیکیولز کے سٹرکچرز سے ملتا جلتا ہے جو پودوں کے ٹھوس سٹرکچرز میں ہوتا ہے، لیکن کائی ٹن سیلیولوز سے زیادہ مضبوط سٹرکچر بناتا ہے-

بیرونی خول کی مضبوطی
اگر ہم کسی لوبسٹر کے خول کو خوردبین سے دیکھیں تو اس میں کائی ٹن کی کرسٹلز صاف طور پر دیکھی جا سکتی ہیں جو ایک دوسرے کے اوپر اس طرح سے جڑی ہوتی ہیں جیسے پلائی ووڈ کی مختلف تہیں ایک دوسرے سے جڑی ہوتی ہیں- ان نینوسٹرکچرز کی وجہ سے حشرات کا خول بہت مضبوط ہوتا ہے اور ان حشرات کا تمام تر وزن برداشت کر پاتا ہے- یہی وجہ ہے کہ حشرات اپنے وزن سے کہیں زیادہ بھاری چیزیں اٹھا کر لے جا سکتے ہیں
    فقاری جانوروں میں بیرونی ڈھانچہ کیوں نہیں ہوتا
سوال یہ اٹھتا ہے کہ اگر بیرونی ڈھانچہ یعنی exoskeleton اس قدر مضبوط ہوتا ہے تو پھر تمام جانور اور انسان اس سے محروم کیوں رہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ بیرونی ڈھانچے کے جہاں بہت سے فوائد ہیں وہیں اس کے بہت سے نقصانات بھی ہیں- بیرونی ڈھانچے کا سب سے بڑا نقصان تو یہ ہوتا ہے کہ بیرونی ڈھانچے کے لیے مزید بڑا ہونا ممکن نہیں ہوتا- اس لیے جیسے ہی کسی کیڑے کا سائز کچھ بڑا ہوتا ہے، اسے بیرونی ڈھانچہ اتار کر پھینکنا پڑتا ہے اور اس کی جگہ نیا بیرونی ڈھانچہ تشکیل پاتا ہے- اسے molting  یا کینچلی بدلنا کہا جاتا ہے- اس نئے ڈھانچے کی تشکیل میں کئی دن لگ سکتے ہیں اور اس دوران حشرات بالکل غیرمحفوظ ہوتے ہیں- بیرونی ڈھانچے میں ایک اور مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ مسلز صرف اس کی اندرونی سطح سے ہی منسلک ہو سکتے ہیں یعنی ڈھانچے کا صرف نصف حصہ مسلز کے منسلک ہونے کے لیے میسر ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ بیرونی ڈھانچے کی مضبوطی کی بھی ایک حد ہے- یہ بات درست ہے کہ چیونٹی کی ٹانگیں بے حد طاقتور ہوتی ہیں- لیکن اگر چیونٹی کا سائز گھوڑے جتنا ہو جائے تو اس کے اپنے مسلز بیرونی ڈھانچے کے وزن کی وجہ سے پچک جائیں گے اور چیونٹیاں زندہ نہیں رہ پائیں گی- اس کی وجہ یہ ہے کہ جیسے جیسے کسی بھی جانور کی لمبائی بڑھتی ہے، اس جانور کا وزن اس لمبائی کے مکعب یعنی کیوب کے تناسب سے بڑھتا ہے-
اس کے برعکس جب ہڈیاں جسم کے اندر ہوتی ہیں تو مسلز کو ہڈیوں کے ساتھ منسلک ہونے کے لیے زیادہ سرفیس ایریا میسر آتا ہے کیونکہ ہڈیوں کے چاروں طرف مسلز منسلک ہو سکتے ہیں۔ جیسے جیسے ہمارے مسلز بڑے ہوتے ہیں، ویسے ویسے ہڈیاں بھی بڑی اور مضبوط ہوتی جاتی ہیں- اس کے علاوہ جسم کے اکثر مسلز کو ہڈیوں کا بوجھ براہِ راست برداشت نہیں کرنا پڑتا
لیکن ہڈیوں کے بڑا ہونے کی بھی ایک حد ہے- جس جانور کا وزن جس قدر زیادہ ہو گا اسی قدر اس کی ہڈیوں کو بھی بڑا ہونا پڑے گا- ہاتھی کے وزن کا لگ بھگ تیرہ فیصد حصہ ہڈیوں پر مشتمل ہوتا ہے- اس وجہ سے ہاتھی زیادہ تیز حرکت نہیں کر سکتےٓ- اس کے برعکس چوہوں کے جسم کا صرف چار سے پانچ فیصد ہڈیوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ اس لیے ہاتھیوں کے مقابلے میں چوہوں کے مسلز ہڈیوں کی مناسبت سے زیادہ بڑے ہوتے ہیں جس وجہ سے چوہے زیادہ تیزی سے حرکت کر سکتے ہیں- انسانوں کے جسم کا لگ بھگ آٹھ فیصد حصہ ہڈیوں پر مشتمل ہوتا ہے اس لیے انسانوں کی حرکت کی شرح ہاتھیوں اور چوہوں کے درمیان کہیں ہوتی ہے- اگر ہماری ہڈیاں زیادہ وزنی ہوتیں تو ہم زیادہ طاقتور ہوتے لیکن ہماری حرکات اسی قدر سست رفتار ہو جاتیں-
آکسیجن کی فراہمی
بیرونی ڈھانچے کے ساتھ دوسرا بڑا مسئلہ تنفس کا ہے- اگر کوئی چیونٹی انسان جتنی بڑی ہو جائے تو وہ آکسیجن کی محرومی کی وجہ سے چند منٹوں میں ہی مر جائے گی- حشرات میں خون نہیں ہوتا اور ان کے جسم میں آکسیجن کی ترسیل کا نظام محدود ہوتا ہے- حشرات کے جسم میں ایک گاڑھا مائع ہوتا ہے جسے ہیمولمف (Hemolymph) کہا جاتا ہے جس میں زیادہ تر امیون سیلز ہوتے ہیں- حشرات اپنے بیرونی ڈھانچے میں موجود چھوٹے چھوٹے سوراخوں کے ذریعے براہِ راست آکسیجن جذب کرتے ہیں- یہ آکسیجن اندرونی ٹیوب نما سٹرکچرز کے ذریعے براہِ راست مسلز تک پہنچتی ہے- ان ٹیوبز میں آکسیجن کتنے فاصلے تک پہنچ سکتی ہے اس کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ فضا میں آکسیجن کا تناسب کتنا ہے- ماضی بعید میں ڈریگن فلائز (چار پروں والے حشرات جو اکثر پانی کے پاس پائے جاتے ہیں) اتنی بڑی ہوتی تھیں کہ فاسلز میں ان کی لمبائی ساٹھ سینٹی میٹر تک بھی دیکھی گئی ہے- اس کی وجہ یہ ہے کہ اس زمانے میں ہوا میں آکسیجن کا تناسب لگ بھگ 35 فیصد تھا- لیکن اب ہوا میں آکسیجن کی شرح 21 فیصد رہ گئی ہے اس لیے اب اس قدر بڑے حشرات کا زندہ رہنا ممکن نہیں رہا
   جسم میں لچک
اس کے علاوہ بیرونی ڈھانچے کا ایک نقصان یہ بھی ہے کہ ایسے جانوروں کے مسلز خواہ کتنے ہی مضبوط ہوں، ان کے جسم میں لچک بہت کم ہوتی ہے- اس لیے بیرونی ڈھانچہ بہت بڑے حشرات کو انتہائی سست رفتار بنا دیتا ہے- اگر چیونٹیاں انسانوں جتنی بڑی ہوتیں تو ان کی رفتار 'چیونٹیوں کی رفتار' سے بھی کہیں کم ہوتی اور ان کے جسم اپنے ہی وزن سے پچک جاتے- اندرونی ڈھانچوں کی وجہ سے ہمارے جسم میں حشرات کی نسبت بہت زیادہ لچک پائی جاتی ہے جس وجہ سے فقاری جانور خطرات کا بہتر مقابلہ کر پاتے ہی ہیں
 Why are our bones inside the body

Humans are a vertebrate species - in all vertebrate species the flesh and muscles are attached to an internal structure and this structure provides support to the muscles - if we did not have bones in our body, we would not be alive. could live-
 
Our body normally has 206 bones, although the number can be different in some people - for example, about twelve percent of people have extra ribs, meaning they have two extra ribs, while some people have I have two fewer ribs than the average person - we have a total of 52 bones in both feet and 33 vertebrae in our spine - more than half of our body's bones combined are in our hands and feet.
The more flexible the joints of the bones, the easier it is for us to move - the joints of the hands and fingers are relatively more flexible which gives us the ability to perform very complex movements - these movements are controlled by the brain and the brain Oxygen is supplied by red blood cells - these red cells are also made in the bone marrow - we also need bones to hear - three very small bones in our ear are connected to each other and the ear transmits the movements of the eardrum to the inner ear
About seventy percent of bone material is made up of minerals—these minerals combine with a protein called collagen to form bones and give them strength—so about nine to ten kilograms of the body weight of an average adult is made up of bones. - These bones are strong enough to support a weight of about a ton - Even after death, our tissue decomposes quickly, but bones remain intact for thousands of years.

How did bones evolve?

How did bones evolve in animals? To understand this, we have to go back one and a half billion years from today - at that time even multicellular animals had not yet evolved - at that time due to the movements of the tectonic plates and their friction, the rocks below were several kilometers away. Mountains appeared on the Earth's surface - these rocks were eroded by rain and wind, releasing many minerals that were carried by rainwater into the sea via rivers - especially calcium. Carbonate was abundant, and this is the mineral that was later used in animal structures—

When multicellular animals first evolved, they had no bones and their bodies consisted only of soft tissues - since life began in the oceans, it was more difficult for animals with soft tissues to float in water. No - but fifty-six million years ago, species began to split into two parts and animals with two different structures began to evolve - one type of animal had a smooth body but a hard shell over soft tissues. that preserved these tissues - these species evolved into today's insects, which have soft body tissues on the inside and a hard shell or exoskeleton on the outside with attached muscles. These external structures are called exoskeleton
At the same time, another type of soft-tissued animal was evolving, with a slightly harder tissue forming inside the jelly-like soft tissue - gradually this hard tissue began to change into cartilage, the soft bone, which Muscles began to attach to the body - such structures enabled animals to move in water and turn quickly - these structures were the first form of bones.
Thanks to these hard structures i.e. bones, new abilities gradually developed in different parts of the animal's body - Jaws evolved in animals which enabled animals to grasp and scrape food - Gradually the minerals in the hard tissues of the body began to develop. The number also began to increase - thus the backbone evolved and the internal structure of vertebrates (i.e. animals with a backbone) was found, with some modifications, still present in more or less all vertebrate species today.
Different approaches to supporting soft tissues
Different organisms evolved different ways to support soft tissues such as muscles and internal organs—for example, plants evolved complex molecules like lignin and cellulose that enabled plants to grow vertically—in some marine animals, calcium Evolved shells that we now call snails and oysters Vertebrates evolved mineral structures inside the body that we call bones Insects evolved outer shells that protect the soft tissue of their bodies – These shells are composed of strings of sugar molecules called chitin – the structure of chitin molecules is similar to the structure of cellulose molecules found in solid plant structures, but chitin is cellulose. Creates a stronger structure than

Outer shell strength

If we look at a lobster shell under a microscope, we can clearly see kytin crystals that are stacked on top of each other in the same way that different layers of plywood are glued together—these nanostructures. Because of this, the insect's shell is very strong and can support the entire weight of the insect - this is why insects can carry objects much heavier than their own weight.

     Why do vertebrates have no external structure?
The question arises that if the exoskeleton is so strong, then why all animals and humans are deprived of it? This is because while external structures have many advantages, they also have many disadvantages - the biggest disadvantage of external structures is that it is not possible for external structures to grow any larger - so as soon as As an insect grows larger, it sheds its outer structure and replaces it with a new outer structure - this is called molting - this new structure can take several days to form and While insects are quite porous - another problem with the external structure is that the muscles can only attach to its inner surface, meaning only half of the structure is available for the muscles to attach to. There is also a limit to the strength of the exoskeleton—it's true that an ant's legs are incredibly powerful—but if an ant grows to the size of a horse, its own muscles will buckle under the weight of the exoskeleton. The reason for this is that as the length of any animal increases, the weight of that animal increases in proportion to the cube of that length.
In contrast, when bones are inside the body, muscles have more surface area to attach to the bones because muscles can attach around the bones. As our muscles grow, our bones also grow larger and stronger—plus most of the body's muscles don't directly bear the load of bones.
But there is a limit to the size of the bones - the larger the weight of the animal, the larger its bones will have to be - about thirteen percent of the elephant's weight consists of bones - for this reason. Elephants can't move very fast - in contrast, rodents only make up four to five percent of their bodies. Therefore, compared to elephants, mice have larger muscles relative to their bones, which allows them to move faster - about eight percent of the human body is made up of bones, so the rate of movement of humans is faster. Somewhere between elephants and rats - if our bones were heavier, we would be more powerful, but our movements would be slower -
Oxygen supply
The other major problem with the exoskeleton is respiration - if an ant were to grow as large as a human, it would die within minutes due to lack of oxygen - insects have no blood and no oxygen delivery system in their bodies. Limited - Insects have a thick fluid called hemolymph that contains mostly immune cells - Insects absorb oxygen directly through small pores in their outer structure - this oxygen through internal tube-like structures directly to the muscles - how far oxygen can travel in these tubes depends on the oxygen content of the atmosphere - in the distant past dragonflies (four-winged insects (which are often found near water) were so large that they have been found in fossils up to two feet long—because the oxygen in the air at that time was about 35 percent—but now The oxygen level in the air has dropped to 21%, so it is no longer possible for such large insects to survive

Flexibility in the body
Another disadvantage of the exoskeleton is that, however strong the muscles of such animals are, their bodies have very little flexibility - so the exoskeleton makes very large insects very slow - if ants are humans. As large as they were, their speed would have been much slower than the 'speed of ants' and their bodies would have collapsed under their own weight - our bodies are much more flexible than insects due to internal structures that make vertebrates more flexible. They are better able to cope with the dangers



No comments:

Post a Comment

Xxxxxxx

    انجواۓ کلک Enjoyment click Today enjoy click So enjoy your life