انجواۓ کلک
Enjoyment click
Today enjoy click
So enjoy your life
اگر آپ میڈیسن کی فیلڈ میں کام کر رہے ہیں یا میڈیسن کی فیلڈ میں آنا چاہتے ہیں تو اس ساٸیٹ پر کو پروڈکٹ کی تفصيلات پڑھنے کو ملیں گیں کسی بھی پروڈکٹ کی تفصيلات کے لیے نیے دیے گٸے لنک پر کلک کریں If you are working in the field of medicine or want to enter the field of medicine then read the product details on this site and click on the link below for any product details.
Viagra/Erectile Dysfunction Pills How Human Body
And affect health?
People who suffer from erectile dysfunction start using Viagra without a prescription from medical stores. The work of these two drugs is to increase the blood flow and blood pressure in the human body and bring erection in the penis. The side effects and damages caused by them are divided into two parts.
1. Common side effects
Among the common side effects, the first one is that the man feels severe and unbearable pain in the head, because Viagra works by increasing blood flow, the face becomes red, and the vision becomes blurred temporarily. Things may or may not look blue for a while, dizziness and vomiting may also occur. Slight muscle aches and back pain are normal as this is due to the release of the oxytocin hormone. It happens from
2. Rare/dangerous side effects
People who are addicted to using Viagra on a regular basis may experience poor eyesight as it reduces the blood supply to the optic nerve that helps us see and many people may become permanently blind by the age of 45 to 50. When they suffered from blindness, such people told that they had used Viagra last time. Or if you are a diabetic and your age is 45 years or 50 years, the chances of damage in such people increase even more because when these pills are used, after some time it causes more pressure on the heart and if any If a person is a heart patient, the chance of having a heart attack also increases. In very few people, there may be a disease called prapisam. People suffering from this disease, the penis becomes hard more than necessary and hard continuously for 3 to 4 hours. If the penis remains hard for a long time, the blood supply may be affected and the muscles of the penis may be damaged. Due to misconceptions, they also start using Viagra because they feel that they may have lost their natural strength due to masturbation and this gets stuck in their mind, which is why. They also can't get an erection without taking Viagra pills and they remain poor for life. Despite being healthy, they start fearing marriage. Finally, the advice is to believe what you hear or see on the Internet. Never self-medicate, otherwise you may face life-long problems.
ویاگرا /جنسی طاقت کی گولیوں کیسے انسانی جسم
اور صحت کومتاثر کرتی ہیں؟
ایسے افراد جنہیں ایرکشن، یعنی عضو تناسل میں تناؤ نہ آنے کامسلہ ہوتا ہے وہ میڈیکل سٹور وں سے بغیر کسی ڈاکٹری نسخے کے خود سے ویاگرا خرید کر استعمال کرنا شروع کر دیتے ہیں میڈیکل سٹوروں پر عام طور پر جو گولیاں دی جاتی ہیںوہsildenafil یاtadalafil ہوتی ہیں ان دونوں دوائیوں کا کام انسانی جسم میں بلڈفلو ،بلڈ پریشر بڑھا کرعضو تناسل میں ایرکشن لانا ہے ان سے ہونے والے سائیڈ ایفیکٹس ، نقصانات کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔
1۔ Common /عام سائیڈ ایفیکٹس
عام نقصانات میں سب سے پہلا نقصان یہ ہوتا ہے کہ مرد کو سر میں شدید قسم کا نا قابل برداشت درد محسوس ہوتا ہے کیونکہ ویاگرا کا کام بلڈ فلو کو بڑھانا ہےاس لیے چہرہ لال ہو جاتا ہے دیکھنے میں دھندلا پن بھی عارضی طور پر محسوس ہو سکتا ہے یا کچھ وقت کے لیے چیزیں بلیو کلر کی دیکھائی دینے لگتی ہیں اس کے علاوہ چکر آنا اور الٹی کا سامنا بھی ہو سکتا ہے مسلز میں ہلکا سا درد محسوس ہونا اورکمر میں ہلکاسا درد ہونانارمل ہے کیونکہ یہ آکسی ٹوسن ہارمون ریلیز ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے ۔
2۔ Rare /ؒخطر ناک سائیڈ ایفیکٹس
ایسے لوگ جو مستقل ویاگرااستعمال کرنے کے عادی ہوتے ہیں ان کی نظر کمزور پڑ سکتی ہے کیونکہ اس سے آپٹک نروجو ہمیںدیکھنے میں مدد دیتی ہے اس کی بلڈ سپلائی کم ہو جاتی ہے اور 45سال 50سال کی عمر میں کئی افراد مستقل اندھا پن کا شکار بھی ہو چکے ہیں جب وہ اندھا پن کا شکار ہوئے تو دریافت کرنے پر ایسے افراد نے بتایا کہ لاسٹ ٹائم انہوں نے ویاگرا استعمال کر رکھی تھی جن لوگوں کو ہائی بلڈ پریشر کا مسلہ ہو ، پہلے سے ہارٹ اٹیک ہو چکا ہو ، لقوہ ہو چکا ہو ، یا پھر شوگر کے مریض ہوں اور عمر بھی45سال 50سال ہو ، ایسے افراد میں میں نقصانات کے چانسز اور بھی زیادہ بڑھ جاتے ہیں کیونکہ جب ان گولیوں کواستعمال کیا جاتا ہےتو کچھ دیر بعد اس کی وجہ سے دل کے اوپر مزید پریشر پڑتا ہے اور اگر کوئی شخص دل کا مریض ہو تو ہارٹ اٹیک ہونے کاچانس بھی بڑھ جاتا ہے بہت کم لوگوں میں ایک بیماری بھی ہو سکتی ہے جسے prapisamبولتے ہیں اس بیماری میں مبتلا افراد کا عضو تناسل ضرورت سے زیادہ ہی ہارڈ ہو جاتا ہے اور کافی 3سے 4گھنٹوں تک مسلسل ہارڈ رہتا ہے اگر عضو تناسل کافی لمبے عرصے تک ہارڈ رہے تو اس جانب بلڈ سپلائی متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ اعضو تناسل کے مسلز بھی ڈیمج ہو سکتے ہیں prapisamایک میڈیکل ایمر جنسی ہے نوجوان افراد جنہیں ڈپریشن کی وجہ سے ایرکشن نہیں ہوتی یا پھر نیم حکمیوں کی وجہ سے غلط فہمیوں میں مبتلا ہوتے ہیں وہ بھی ویاگرا استعمال کرنا شروع کر دیتے ہیں کیونکہ انہیں ایسا لگتا ہے کہ شاید وہ مشت زنی کے باعث اپنی قدرتی طاقت سے محروم ہو چکے ہیں اور یہ بات ان کے زہن میں بیٹھ جاتی ہے جس وجہ سے انہیں بھی ویاگرا کی گولی کھائے بغیر ایرکشن نہیں ہو پاتی اور وہ عمر بھر لکیر کے فقیر بن کر رہ جاتے ہیںصحت مند ہونے کے باؤجود شادی سے ڈرنے لگتے ہیں آخر میں نصیحت یہ ہے کہ انٹرنیٹ سے دیکھ کر یا پھر سنی سنائی باتوں پر یقین کر کے خود سے کبھی بھی کوئی دوا استعمال مت کریں ورنہ عمر بھر پریشانی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔
مرد کے ناخن لمبے ہونا ایک ایسی ہی بات ہے جو کسی بھی خاتون کو اس سے دور بھگا سکتی ہے۔ خواتین خود تو لمبے ناخن رکھنا پسند کرتی ہیں لیکن مردوں کے لمبے ناخن انہیں زہر لگتے ہیں۔ خصوصاً اگر لمبے ناخن گندے بھی ہوں تو ایسے مرد سے دوبارہ ملنے کا وہ سوچ بھی نہیں سکتیں۔
پاﺅں سے آنے والی بدبو بھی ایک اور ایسی چیز ہے جو عورت کو کوسوں دور بھگانے کے لئے کافی ہوتی ہے۔ دراصل عورت ہو یا مرد، کوئی بھی پیروں کی بدبو کا سامنا نہیں کرنا چاہتا۔ چونکہ مرد عموماً زیادہ وقت کے لئے بند جوتے پہنے رکھتے ہیں لہٰذا انہیں اس ضمن میں خصوصی احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے کہ ان کی جرابیں صاف ہوں اور پاﺅں پسینے سے محفوظ رہیں تا کہ بدبو کا مسئلہ پیدا نا ہو۔
ایسے مردوں کی کمی نہیں جو یہ بتاتے تھکتے نہیں کہ وہ عورتوں میںکتنے مقبول ہیں۔ مردوں کے سامنے اس طرح کی شیخی بگھارنا انہیں ہیرو بنا سکتا ہے لیکن عورت ایسی باتیں سن کر ان کی حقیقت جان جاتی ہیں اور دوبارہ ملنے سے گریز ہی کرتی ہیں۔
اگر آپ کسی خاتون سے دیرپا تعلق چاہتے ہیں تو اس کی بات غور سے سنیں۔ کچھ مردوں کو عادت ہوتی ہے کہ خود ہی بولتے چلے جاتے ہیں۔ شاید وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی باتیں بہت دلچسپ اور دلفریب ہیں، لیکن اگر آپ خاتون کو سنیں گے نہیں تو وہ آپ سے کنارہ کرنا ہی بہتر سمجھے گی۔
آنکھ سے آنکھ ملا کر بات کریں ورنہ اس بات کی امید نا رکھیں کہ خاتون دوبارہ آپ سے ملنا چاہے گی۔ دراصل آنکھ سے آنکھ ملا کر بات کرنا اعتماد کی نشانی ہے اور آنکھیں چرانا جہاں کمزور شخصیت کی علامت ہے وہیں نیت کے فتور کا اشارہ بھی ہے۔ اگر آپ ہر جانب دیکھ رہے لیکن خاتون سے آنکھ ملانے سے گریز کرتے ہیں تو وہ آپ کو دھوکے باز بھی سمجھ سکتی ہے۔ ایسے مردوں کے لئے دوبارہ ملاقات کا امکان واقعی بہت کم ہوتا ہے۔
14 ہزار ڈالرز لگاکر خود کو کتے میں تبدیل کرنیوالا شخص 'کتوں کا ٹیسٹ' پاس کرنے میں ناکام
یہ شخص بظاہر کتا تو بن گیا لیکن وہ کتوں کی مختلف کھیلوں کی سرگرمیوں پر مشتمل ٹیسٹ پاس کرنے میں ناکام ہوگیا_
جاپان سے تعلق رکھنے والے شخص کو اس وقت شدید صدمہ پہنچا جب وہ کتوں کا ٹیسٹ ہی پاس کرنے میں ناکام ہوگیا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق گزشتہ دنوں ایک جاپانی شخص خبروں کی زینت بنا رہا جس کی وجہ اس کا عجیب و غریب اور منفرد شوق تھا۔
اپنا نام ٹوکو بتانے والے اس شخص کو کتوں سے اتنی محبت اور لگاؤ ہے کہ اس نے خود کو ہی کتے کا روپ دے دیا، اس شخص نے کتے کا روپ دھارنے کے لیے 14 ہزار ڈالرز خرچ کیے۔
رپورٹس کے مطابق مذکورہ شخص نے کچھ عرصہ قبل کتا بننے کے لیے باڈی سوٹس، تھری ڈی ماڈلز اور ملبوسات تیار کرنے والی مشہور کمپنی سے رابطہ کیا اور 2 ملین ین (14 ہزار ڈالرز سے زائد) کی لاگت سے 40 دنوں میں حقیقت سے قریب تر کتے کا لباس تیار کرنے کا کہا۔
فوٹو اینڈ ویڈیو شیئرنگ ایپ انسٹا گرام پر ٹوکو کے نام اس سے اس شخص کا اکاؤنٹ بنا ہوا ہے جب کہ یوٹیوب اکاؤنٹ پر بھی یہ شخص خود کی کتے جیسے چلنے، کھانے پینے اور دیگر ویڈیوز شیئر کرتا ہے۔
تاہم یہ شخص بظاہر کتا تو بن گیا لیکن وہ کتوں کی مختلف کھیلوں کی سرگرمیوں پر مشتمل ٹیسٹ پاس کرنے میں ناکام ہوگیا۔
اس ٹیسٹ میں مختلف رکاوٹیں لگائی جاتی ہیں جنہیں پار کرتے ہوئے کتے اگلے مراحل کی جانب بڑھتے ہیں، انسٹاگرام اکاؤنٹ پر شیئر کی جانے والی تصاویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ 'ٹوکو' یہ ٹیسٹ پاس کرنے میں کیسے ناکام ہوا۔
The man who changed himself into a dog by investing 14 thousand dollars failed to pass the 'dog test'
This man apparently became a dog, but failed to pass a test involving various canine sporting activities.
A man from Japan was shocked when he failed the dog test.
According to foreign media, a Japanese man was in the news recently because of his strange and unique hobby.
This man, whose name is Tuco, loves and loves dogs so much that he disguised himself as a dog. This man spent 14 thousand dollars to transform into a dog.
According to reports, the man recently contacted a well-known company that produces bodysuits, 3D models and costumes to become a dog and cost 2 million yen (over $14,000) in 40 days. Asked to prepare dog clothes.
The man has an account on the photo and video sharing app Instagram under the name Toko, while the man also has a YouTube account where he shares videos of himself walking his dog, eating and drinking, and more.
However, the man apparently became a dog but failed to pass a test involving various canine sporting activities.
The test consists of various hurdles which the dogs must overcome to advance to the next stages, photos shared on the Instagram account show how 'Toco' failed to pass the test

بےہوشی کی دوا کی ایجاد سے پہلے لوگ آپریشن کے دوران شاک سے مر جایا کرتے تھے (dynamosquito/flickr, CC BY-SA)
کسی بھی دوا کے دنیا کی تاریخ پر مرتب کردہ اثرات کا جائزہ پیش کرنا مشکل کام ہے، لیکن یہاں ہم پانچ ایسی ادویات کا ذکر کرنے جا رہے ہیں جن کے بارے میں آسانی سے دعویٰ کیا جا سکتا ہے کہ انہوں نے ہماری زندگیوں کو بہت بڑے پیمانے پر تبدیل کیا اور اکثر ایسے طریقوں سے جو ہمارے وہم و گمان میں بھی نہ تھے۔
یہ ادویات اپنے ساتھ کچھ ناقابل یقین فوائد لائیں۔ لیکن بالعموم ان کی میراث میں فوائد کے ساتھ ساتھ کئی طرح کی پیچیدگیاں بھی شامل ہیں جن کو ہمیں تنقیدی نگاہ سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔
یہ بات اچھی طرح یاد رہنی چاہیے کہ آج جو دوا ہمیں اپنے فوائد سے حیرت میں مبتلا کر رہی ہے وہی کل کو پریشانیوں کا باعث بھی بن سکتی ہے
1: بےہوشی کی دوا
اٹھارویں صدی کے اواخر میں ایک انگریز کیمیا دان جوزف پریسلی نے ایک گیس بنائی جسے اس نے ’فلوجسٹکیٹڈ نائٹرس ایئر‘ (نائٹرس آکسائیڈ) کا نام دیا۔
انگریز کیما دان ہمفری ڈیوی کا خیال تھا کہ اسے سرجری میں درد سے نجات کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے اگرچہ اس کے بجائے بہت جلد یہ ایک تفریحی نشہ بن گئی۔
اس سلسلے میں اگلی بڑی پیش رفت 1834 میں ہوئی جب فرانسیسی کیمیا دان ژاں بیپٹیس دوماس نے ایک نئی گیس کلوروفارم تیار کر لی۔
سکاٹش ڈاکٹر جیمز ینگ سمپسن نے 1847 میں اسے بچے کی پیدائش کے عمل کو آسان بنانے کے لیے استعمال کیا۔
جلد ہی بےہوشی کی دوا کو سرجری کے دوران زیادہ وسیع پیمانے پر استعمال کیا جانے لگا اور اس کے نتائج کافی حوصلہ افزا تھے۔
اینستھیزیا سے پہلے جراحی کا عمل انتہائی تکلیف دہ اور ناقابل برداشت تھا۔ تصور کیجیے کہ ایک جیتے جاگتے شخص کے جسم کی تیز دھار آلات سے چیر پھاڑ کی جا رہی ہے اور پھر سوئی کی نوک سے ٹانکے لگائے جا رہے ہیں۔ یہاں تک کہ مریض اکثر درد کی شدت سے مر جایا کرتے تھے۔
لیکن کوئی بھی دوا جو لوگوں کو بے ہوش کر سکتی ہے وہ نقصان کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ آج بھی بےہوشی کے لیے استعمال ہونے والی ادویات خطرے سے خالی تصور نہیں کی جاتیں کیونکہ یہ اعصابی نظام کی بتی ہمیشہ کے لیے گل کر سکتی ہیں۔
2: پینسلین
1928 میں سکاٹ لینڈ کے ڈاکٹر الیگزینڈر فلیمنگ کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ حادثاتی طور پر دریافت ہونے والی ادویات کے کلاسیکی واقعات کی ایک بہترین مثال ہے۔
فلیمنگ اپنی لیبارٹری کی میز پر سٹریپٹوکوکس نامی بیکٹیریا کی کچھ نمونوں کو چھوڑ کر چھٹی پر چلے گئے۔
جب واپس آئے تو انہوں نے دیکھا کہ ہوا میں موجود پینیسلیم نامی ایک قسم کی پھپھوندی نے اس بیکٹریا کو بڑھنے سے روک دیا ہے۔
انہوں نے اس پھپھوندی سے جو مادہ الگ کیا اسے پینسلین کا نام دیا گیا۔ آسٹریلوی پیتھالوجسٹ ہاورڈ فلوری اور ان کی ٹیم نے پینسلین کو مستحکم کیا اور پہلا انسانی تجربہ کیا۔
امریکہ کی مالی اعانت سے پینسلین کو بڑے پیمانے پر تیار کیا گیا اور دوسری جنگ عظیم کا رخ بدل دیا۔ اس کا استعمال ہزاروں فوجیوں کے علاج کے لیے کیا گیا تھا۔
پینسلین اور اس کی نسل کی ادویات ایک ہی حملے میں لاکھوں لوگوں کی ہلاکت کا باعث بننے والی بیماریوں کے خلاف انتہائی بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔
تاہم ان کے وسیع پیمانے پر استعمال سے کچھ بیکٹیریا دیگر امراض کے علاج میں استعمال ہونے والی ادویات کو موثر نہیں ہونے دیتے۔
فلیمنگ کی انسانیت سے گہری محبت کا اس سے بڑھ کر اظہار کیا ہو سکتا ہے کہ انہوں نے پینسلین کے حقوق اپنے پاس رکھ کر یا اسے فروخت کر کے مال بنانے سے گریز کیا۔
طبی شعبے میں اکثر جب وسیع تر انسانی اخلاقیات کا ذکر ہوتا ہے ان کا یہ قول بقول مثال پیش کیا جاتا ہے کہ ’میں نے پنسلین دریافت کی اور انسانیت کی بھلائی کے لیے مفت میں دے دی۔
بھلا کس لیے اسے دوسرے ملکوں میں صنعت کاروں کی منافع بخش اجارہ داری کی نذر کر دیا جاتا؟‘
3: نائٹروگلسرین
نائٹروگلسرین کی ایجاد 1847 میں ہوئی تھی اور اس نے دنیا کے سب سے طاقتور دھماکہ خیز مواد کے طور پر بارود کو پیچھے چھوڑ دیا تھا۔
لیکن بعد میں پتہ چلا کہ یہ تباہ کن مواد یہ سینے میں درد کا باعث بننے والی دل کے امراض سے منسلک بیماری انجائنا کا علاج کرنے والی پہلی جدید دوا کے طور پر بھی استعمال ہو سکتی ہے۔
اس بات کا علم یوں ہوا کہ دھماکہ خیز مواد کا براہ راست سامنا کرنے والے فیکٹری کارکنان کے سر میں درد اور چہرے پر جھریاں پڑنے لگیں۔
جب سائنس دانوں نے تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ نائٹروگلسرین ایک ویزوڈائلیٹر ہے یعنی یہ خون کی نالیوں کو پھیلاتا یا کھلا کر دیتی ہے۔
لندن کے معالج ولیم موریل نے اپنے اوپر نائٹروگلسرین کا تجربہ کیا اور اسے انجائنا کے مریضوں پر آزمایا، جس سے انہیں تقریباً فوری آرام مل گیا۔
نائٹروگلسرین نے انجائنا میں مبتلا لاکھوں لوگوں کے لیے نسبتاً معمول کی زندگی گزارنا ممکن بنایا۔
اس نے بلڈ پریشر کو کم کرنے والی، دل کی دھڑکن کو معمول پر لانے والی اور خون میں کولیسٹرول کی مقدار گھٹانے والی ادویات سمیت ایسی کئی دیگر دوائیوں کی بھی راہ ہموار کی۔ ان ادویات نے مغربی ممالک میں زندگی کو بڑھایا اور اوسط عمر میں اضافہ کیا ہے۔
لیکن چونکہ لوگوں کی زندگیاں طویل ہو گئی ہیں اس لیے اب کینسر اور دیگر غیر متعدی بیماریوں سے اموات کی شرح زیادہ ہو گئی ہے۔ کیونکہ بڑھتی عمر کے ساتھ بہت سے انسانی خلیے غیر فعال ہو کر زہریلے مادوں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں اور بالآخر موزی امراض ہمیں موت کی طرف تیزی سے دھکیلنے لگتی ہیں۔ بہرحال ہم کہہ سکتے ہیں کہ نائٹروگلسرین نے دنیا کو ایسے بدلا جیسے کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔
4: مانع حمل گولی
1920 کی دہائی کے اوائل میں آسٹریا کے سائنس دان لوڈوگ ہیبرلینڈ نے ایک تحقیقی مقالے میں بتایا کہ کس طرح جانوروں میں ہارمونز کے اتار چڑھاؤ سے حمل کو روکا جا سکتا ہے۔
انہیں اپنے ساتھیوں کی شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا لیکن اس کے باوجود انہوں نے مادہ خرگوش پر اپنے تجربات کیے۔ 1932 میں ان کی مبینہ خودکشی سے یہ باب وہیں بند ہو گیا۔ چند دہائیوں بعد امریکہ میں ایسے تجربات زیادہ مؤثر طریقے سے کیے گئے۔
شرح پیدائش کم کرنے کے زبردست حامی اور امریکہ سے تعلق رکھنے والی مصنفہ مارگریٹ سینگر نے محقق گریگری پنکس سے ایسی دوا تیار کرنے کے لیے کہا جو ہارمونل مانع حمل ہو۔
اس کے لیے مالی اعانت کیتھرین میک کورمک نے پیش کی تھی جنہیں وراثت میں کثیر سرمایہ منتقل ہوا تھا۔
اپنی تحقیق کے نتیجے میں پنکس کو معلوم ہوا کہ پروجیسٹرون بیضہ دانی میں سے انڈے کے اخراج کو روکتا ہے جسے انہوں نے آزمائشی گولی تیار کرنے کے لیے استعمال کیا۔
کلینیکل ٹرائلز خاص طور پر پورٹو ریکو میں کمزور طبقے سے تعلق رکھنے والی خواتین پر کیے گئے جس پر تشویش کا اظہار کیا گیا کہ انہیں پہلے سے اس کے فوائد، خطرات اور ضمنی مضر اثرات سے آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔
نئی دوا امریکہ کی فوڈ اینڈ ڈرگ انتظامیہ کی منظوری کے بعد جی ڈی سرل اینڈ کمپنی کی طرف سے 1960 میں اینوئڈ کے نام کے ساتھ مارکیٹ میں پیش کی گئی۔
اس کی اجازت اس لیے دی گئی کہ حمل کے نتیجے میں پیدا ہونے والے خطرات کے مقابلے میں اس کے خون کو گاڑھا کرنے اور فالج جیسے ضمنی خطرات کئی درجے کم مہلک تھے۔
مانع حمل ادویات کے استعمال اور اس کے سنگین سائیڈ ایفیکٹس کے درمیان ربط کو ثابت کرنے میں دس برس لگ گئے۔
1970 میں امریکہ کی حکومتی سطح پر ہونے والی انکوائری کے بعد اس گولی کے ہارمونز کی سطح ڈرامائی طور پر کم کر دی گئی۔
اس کے نتیجے میں ایک اور چیز بھی ہوئی کہ اب کسی بھی خریدار کو ہر پیکٹ کے اندر ایک معلوماتی پرچہ ملتا جس پر اس کا مکمل نسخہ درج ہوتا۔
اس گولی نے عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی آبادی کے خلاف انتہائی موثر کردار ادا کیا جس کے بعد خاندان مختصر اور معاشی طور پر زیادہ مستحکم ہوئے کیونکہ خواتین کے لیے ملازمتیں کرنا آسان ہو گیا اور ایک نئی افرادی قوت میسر آئی۔
تاہم آج بھی یہ سوالات اپنی جگہ موجود اور جواب طلب ہیں کہ کس طرح طب کے پیشے نے خاص طور پر پورٹو ریکو میں کمزور طبقے کی خواتین کے جسموں پر پیشگی اجازت اور ممکنہ ضمنی مضر اثرات سے آگاہ کیے بغیر تجربات کیے۔
5 ڈائزیپام
اعصابی نظام کو پرسکون کرنے والی ادویات کی ایک قسم بینزو ڈائزاپین (benzodiazepine) پہلی مرتبہ 1955 میں تیار کی گئی تھی اور دوا ساز کمپنی ہاف مین لا روش نے اسے ’لبریم‘ (Librium) کے طور پر مارکیٹ میں متعارف کروایا تھا۔
یہ اور اس قسم کی باقی ادوایات بے چینی کے ’علاج‘ کے طور پر فروخت نہیں کی گئی تھیں۔ بلکہ ان کا استعمال سائیکو تھراپی میں مشغول رکھنے کے لیے کیا گیا تھا یعنی سائیکو تھراپی حقیقی حل تصور کی گئی تھی اور یہ اسے تکمیل تک پہنچانے میں محض معاون تھی۔
پولش امریکن کیمیا دان لیو سٹرن باخ اور ان کے ریسرچ گروپ نے 1959 میں لبریم کو کیمیائی طور پر تبدیل کیا اور ایک زیادہ طاقت ور دوا کے روپ میں بدل ڈالا۔ اس طرح ڈائزیپام وجود میں آئی جس کی تشہیر 1963 سے ’ویلیم‘ کے برینڈ نام سے فروخت کی جانے لگی۔
اس طرح کی آسانی سے دستیاب ہونے والی اور کم قیمت ادویات نے گہرے اثرات مرتب کیے۔ 1969 سے لے کر 1982 تک امریکہ میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والی دوا ویلیز ہی تھی۔
ان ادوایات نے ایک پورے نئے کلچر کی بنیاد رکھی۔ اب لوگ ادویات کے ذریعے تناؤ اور اضطراب پر قابو پانے لگے۔
ویلیم نے اعصابی نظام کو پرسکون کر کے اضطراب اور تناؤ سے نجات دلانے والی جدید ادویات کا راستہ ہموار کیا۔
ان نئی ادویات کی بھاری مقدار لینا زیادہ مشکل (مگر ناممکن نہیں) تھا اور ان کے ضمنی مضر اثرات کم تھے۔ فلوکسیٹین (Fluoxetine) پہلی Selective serotonin reuptake inhibitor تھی جسے 1987 میں ’پروزیک‘ Prozac کے نام سے مارکیٹ میں پیش کیا گیا۔
نوٹ: یہ تحریر پہلے ’دا کنورسیشن‘ پر شائع ہوئی تھی اور یہاں اس کا ترجمہ اجازت سے پیش کیا جا رہا ہے۔ اس کی مصنفہ فلیپا مارٹائر یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا میں فارماکالوجی کی لیکچرر ہیں۔
