Ads

   

Friday, 1 March 2024

Xxxxxxx

 

 


انجواۓ کلک

Enjoyment click


Today enjoy click




So enjoy your life


Sunday, 17 December 2023

ویاگرا /جنسی طاقت کی گولیوں کیسے انسانی جسم اور صحت کومتاثر کرتی ہیں؟

 

Viagra/Erectile Dysfunction Pills How Human Body

  And affect health?

People who suffer from erectile dysfunction start using Viagra without a prescription from medical stores. The work of these two drugs is to increase the blood flow and blood pressure in the human body and bring erection in the penis. The side effects and damages caused by them are divided into two parts.


1. Common side effects


Among the common side effects, the first one is that the man feels severe and unbearable pain in the head, because Viagra works by increasing blood flow, the face becomes red, and the vision becomes blurred temporarily. Things may or may not look blue for a while, dizziness and vomiting may also occur. Slight muscle aches and back pain are normal as this is due to the release of the oxytocin hormone. It happens from


2. Rare/dangerous side effects


People who are addicted to using Viagra on a regular basis may experience poor eyesight as it reduces the blood supply to the optic nerve that helps us see and many people may become permanently blind by the age of 45 to 50. When they suffered from blindness, such people told that they had used Viagra last time. Or if you are a diabetic and your age is 45 years or 50 years, the chances of damage in such people increase even more because when these pills are used, after some time it causes more pressure on the heart and if any If a person is a heart patient, the chance of having a heart attack also increases. In very few people, there may be a disease called prapisam. People suffering from this disease, the penis becomes hard more than necessary and hard continuously for 3 to 4 hours. If the penis remains hard for a long time, the blood supply may be affected and the muscles of the penis may be damaged. Due to misconceptions, they also start using Viagra because they feel that they may have lost their natural strength due to masturbation and this gets stuck in their mind, which is why. They also can't get an erection without taking Viagra pills and they remain poor for life. Despite being healthy, they start fearing marriage. Finally, the advice is to believe what you hear or see on the Internet. Never self-medicate, otherwise you may face life-long problems.


 

ویاگرا /جنسی طاقت کی گولیوں کیسے انسانی جسم

 اور صحت کومتاثر کرتی ہیں؟  

ایسے افراد جنہیں ایرکشن، یعنی عضو تناسل میں تناؤ نہ آنے کامسلہ ہوتا ہے وہ میڈیکل سٹور وں سے بغیر کسی ڈاکٹری نسخے کے خود سے ویاگرا خرید کر استعمال کرنا شروع کر دیتے ہیں میڈیکل سٹوروں پر عام طور پر جو گولیاں دی جاتی ہیںوہsildenafil یاtadalafil ہوتی ہیں ان دونوں دوائیوں کا کام انسانی جسم میں بلڈفلو ،بلڈ پریشر بڑھا کرعضو تناسل میں ایرکشن لانا ہے ان سے ہونے والے سائیڈ ایفیکٹس ، نقصانات کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔  


1۔ Common /عام سائیڈ ایفیکٹس


عام نقصانات میں سب سے پہلا نقصان یہ ہوتا ہے کہ مرد کو سر میں شدید قسم کا نا قابل برداشت درد محسوس ہوتا ہے کیونکہ ویاگرا کا کام بلڈ فلو کو بڑھانا ہےاس لیے چہرہ لال ہو جاتا ہے دیکھنے میں دھندلا پن بھی عارضی طور پر محسوس ہو سکتا ہے یا کچھ وقت کے لیے چیزیں بلیو کلر کی دیکھائی دینے لگتی ہیں اس کے علاوہ چکر آنا اور الٹی کا سامنا بھی ہو سکتا ہے مسلز میں ہلکا سا درد محسوس ہونا اورکمر میں ہلکاسا درد ہونانارمل ہے کیونکہ یہ آکسی ٹوسن ہارمون ریلیز ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے ۔


2۔ Rare /ؒخطر ناک سائیڈ ایفیکٹس


ایسے لوگ جو مستقل ویاگرااستعمال کرنے کے عادی ہوتے ہیں ان کی نظر کمزور پڑ سکتی ہے کیونکہ اس سے آپٹک نروجو ہمیںدیکھنے میں مدد دیتی ہے اس کی بلڈ سپلائی کم ہو جاتی ہے اور 45سال 50سال کی عمر میں کئی افراد مستقل اندھا پن کا شکار بھی ہو چکے ہیں جب وہ اندھا پن کا شکار ہوئے تو دریافت کرنے پر ایسے افراد نے بتایا کہ لاسٹ ٹائم انہوں نے ویاگرا استعمال کر رکھی تھی جن لوگوں کو ہائی بلڈ پریشر کا مسلہ ہو ، پہلے سے ہارٹ اٹیک ہو چکا ہو ، لقوہ ہو چکا ہو ، یا پھر شوگر کے مریض ہوں اور عمر بھی45سال 50سال ہو ، ایسے افراد میں میں نقصانات کے چانسز اور بھی زیادہ بڑھ جاتے ہیں کیونکہ جب ان گولیوں کواستعمال کیا جاتا ہےتو کچھ دیر بعد اس کی وجہ سے دل کے اوپر مزید پریشر پڑتا ہے اور اگر کوئی شخص دل کا مریض ہو تو ہارٹ اٹیک ہونے کاچانس بھی بڑھ جاتا ہے بہت کم لوگوں میں ایک بیماری بھی ہو سکتی ہے جسے prapisamبولتے ہیں اس بیماری میں مبتلا افراد کا عضو تناسل ضرورت سے زیادہ ہی ہارڈ ہو جاتا ہے اور کافی 3سے 4گھنٹوں تک مسلسل ہارڈ رہتا ہے اگر عضو تناسل کافی لمبے عرصے تک ہارڈ رہے تو اس جانب بلڈ سپلائی متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ اعضو تناسل کے مسلز بھی ڈیمج ہو سکتے ہیں prapisamایک میڈیکل ایمر جنسی ہے نوجوان افراد جنہیں ڈپریشن کی وجہ سے ایرکشن نہیں ہوتی یا پھر نیم حکمیوں کی وجہ سے غلط فہمیوں میں مبتلا ہوتے ہیں وہ بھی ویاگرا استعمال کرنا شروع کر دیتے ہیں کیونکہ انہیں ایسا لگتا ہے کہ شاید وہ مشت زنی کے باعث اپنی قدرتی طاقت سے محروم ہو چکے ہیں اور یہ بات ان کے زہن میں بیٹھ جاتی ہے جس وجہ سے انہیں بھی ویاگرا کی گولی کھائے بغیر ایرکشن نہیں ہو پاتی اور وہ عمر بھر لکیر کے فقیر بن کر رہ جاتے ہیںصحت مند ہونے کے باؤجود شادی سے ڈرنے لگتے ہیں آخر میں نصیحت یہ ہے کہ  انٹرنیٹ سے دیکھ کر یا پھر سنی سنائی باتوں پر یقین کر کے خود سے کبھی بھی کوئی دوا استعمال مت کریں ورنہ عمر بھر پریشانی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔

 


Sunday, 10 December 2023

میٹابولزم کیا ہے؟What is metabolism?

 
      میٹابولزم کیا ہے 
 
پہلی بات تو ہم یہ کرتے ہیں کہ میٹابولزم ہوتا کیا ہے۔ زیادہ تر لوگوں کے نزدیک خوراک ہضم ہونے کا عمل ہی میٹابولزم ہوتا ہے۔ لیکن میٹابولزم کی ڈیفینیشن اس سے وسیع ہے۔ ہمارے جسم میں ہونے والے تمام ریکشنز کو میٹابولزم کہتے ہیں۔ ان ریکشنز کو ہم دو اقسام میں تقسیم کرسکتے ہیں
نمبر ایک catabolism ، یہ ایسے metabolic reactions ہوتے ہیں جن میں کسی چیز (کیمکل مالیکول) کو توڑا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ہم خوراک سے توانائی لیتے ہیں، تو اس کام میں ہم خوراک کے بڑے حصوں کو چھوٹے حصوں میں توڑتے ہیں اور پھر ان چھوٹے حصوں کو مزید چھوٹے حصوں میں توڑتے ہیں اور پھر ان سے توانائی بناتے ہیں۔ 
لیکن ہم خوراک سے صرف توانائی نہیں بناتے ، ہم خوراک سے جسم بھی بناتے ہیں۔ یعنی کہ ہمارے خلیوں میں جو سیلز ہیں، وہ جس کاربوہائیڈریٹ، پروٹین، فیٹ سے بنے ہیں وہ سب ہماری خوراک سے ہی آئے ہیں۔ سو پہلے خوراک کو توڑا جاتا ہے اور پھر ان چھوٹے حصوں کو الگ الگ ترتیب سے جوڑ کر مختلف کیمکلز بنائے جاتے ہیں جن سے جسم بنتا ہے یا وہ جسم میں کوئی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ایسے چھوٹے حصوں کو جوڑ کر کوئی بڑا حصہ بنانا anabolism کہلاتا ہے۔ 
سو ہم نے میٹابولز کو دو حصوں میں تقسیم کیا ایک catabolism جس میں ہم بڑی اور پیچیدہ مالیکولز کو توڑ کر چھوٹے مالیکولز بناتے ہیں، جبکہ دوسرا وہ جس میں ہم چھوٹے مالیکولز کو جوڑ کر کوئی بڑا مالیکول بناتے ہیں۔ یہ دونوں قسم کے ریکشنز ایک دوسرے پر منحصر ہوتے ہیں۔ مثلاً اگر خوراک کو توڑا ہی نہ جائے تو جسم کو وہ مالیکولز ہی نہ ملیں گے جن کا anabolism کر کے بڑے مالیکولز بنانے ہیں۔ اسی طرح اگر بڑے مالیکولز نہیں ہوں گے تو خوراک کو توڑنے کے لیے وہ اینزیمز ہی نہیں ملیں گے جو anabolism کے بعد بنتے ہیں۔ 
اب ہم خوراک اور موٹاپے کی بات کریں تو خوراک ہمیں توانائی کے لیے اور جسم کی گروتھ (anabolism) کے لیے چاہیے ہوتی ہے۔ جو خوراک ہم۔کھاتے ہیں وہ مالیکولز میں توڑ دی جاتی ہے اور پھر اس خوراک کے کچھ حصے کو توانائی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور کچھ حصے کو مختلف structures بنانے کے لیے اور باقی خوراک کو سٹور کرلیا جاتا ہے۔ عام طور پر موٹاپا تب ہوتا ہے جب خوراک ضرورت سے زیادہ بڑھ جاتی ہے سو اس کا سٹور کیے جانے والا حصہ بھی بڑھ جاتا ہے ، اور زیادہ تر خوراک کو جسم فیٹ کی صورت سٹور کرتا ہے اور موٹاپا آتا ہے۔
واضح رہے کہ موٹاپا اس لیے آیا تھا کیونکہ خوراک ضرورت سے زیادہ تھی۔ سو اگر خوراک کی ضرورت بڑھا دی جائے ؟ یعنی کہ جسم کی توانائی کی ضرورت بڑھا دی جائے تو خوراک بھی زیادہ استعمال ہوگی اور کم سٹور ہوگی، اور اگر ضرورت بڑھا کر خوراک کی کمی کردی جائے تو وہ خوراک استعمال ہوگی جو جسم نے سٹور کی ہوگی، جس میں فیٹ بھی شامل ہے۔ اور خوراک سے توانائی بنانا کیا ہے ؟ یہ میٹابولزم ہی تو ہے۔ سو جب آپ توانائی کی ضرورت بڑھاتے ہیں تب اپ جسم کو میٹابولزم (catabolism) بڑھانے کا کہہ رہے ہیں۔ اور جسم ایسا ہی کرتا ہے اور خوراک سے توانائی بناتا ہے جس میں سٹور کیا گیا فیٹ بھی استعمال ہوتا ہے۔ توانائی کی ضرورت کیسے بڑھے گی ؟ ورزش کرکے!!!
لیکن کچھ لوگ ورزش بلکل نہیں کرتے اور کھانا بھی بغیر احتیاط کے کھاتے  ہیں لیکن موٹے نہیں ہوتے ؟ سو اس میں سب سے پہلے تو ہمیں دیکھنا ہوگا کہ کیا وہ سچ میں ایسی زندگی گزار رہے ہیں یا صرف ہمیں لگتا ہے۔ سو اگر وہ سچ میں ایسے ہیں تو ان کی زیادہ تر وجہ میٹابولزم کی تیزی ہوگی۔ 
اب میٹابولزم کی تیزی سے کیا مراد ہے ؟ دراصل جتنے بھی ریکشنز ہمارے جسم میں ہورہے ہیں وہ سب اینزیمز کی موجودگی میں ہوتے ہیں۔ اینزیمز کے بغیر جسم میں کوئی بھی کیمکل ریکشن نہیں ہوتا۔ یعنی کہ ہمارا خوراک سے توانائی لینے کے ریکشنز بھی بھی اینزیمز کرواتے ہیں۔ اور ان اینزیمز کے کام کو کنٹرول کرنے کےلئے مختلف چیزیں ہوتی ہیں /مختلف طریقے ہوتے ہیں۔
 سب سے پہلا طریقہ تو یہ ہے کہ اینزیم کے ریکشن کے بعد جو پروڈکٹ بنا رہا ہے ، وہ پروڈکٹ ایک خاص مقدار میں پہنچنے کے بعد اینزیم کے کام کو خود ہی روک دے۔ ایک طریقہ یہ بھی ہوتا ہے کہ اینزیم کی پیداوار کو روکا جائے، اور اینزیم کتنی مقدار میں بنیں گے یہ ڈی این اے پر منحصر ہے۔ اسی طرح ایک اہم طریقہ ہارمونز کے ذریعے اینزیمز کے عمل کو کنٹرول کرنا ہے۔ سو جب ان طریقوں میں کوئی abnormality آتی ہے تو میٹابولزم کا ریٹ یا تو بڑھ جاتا ہے یا کم ہوجاتا ہے۔ مثلاً thyroid hormones ہمارے جسم کے overall میٹابولزم کو کنٹرول کرتے ہیں، جب یہ ہارمون ضرورت سے زیادہ بنتے ہیں (hyperthyroidism) تو جسم کا میٹابولزم بڑھ جاتا ہے۔ جبکہ ضرورت سے کم (hypothyroidism) ہو تو میٹابولزم سست ہوجاتا ہے۔
میٹابولزم کے بڑھنے سے کیا ہوتا ہے ؟ میٹابولزم کے بڑھنے سے جو خوراک ہم کھاتے ہیں اور جو ہم نے فیٹ کی صورت میں سٹور کی ہوتی ہے اس سے توانائی بنانے کا عمل بڑھ جاتا ہے اس لیے نہ تو زیادہ فیٹ سٹور ہوتا ہے یعنی موٹاپا اتا ہے اور نہ ایک وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ ایسے لوگ زیادہ کھاتے ہیں کیونکہ وہ کھانا استعمال بھی زیادہ کر رہے ہیں۔ مگر ایسے لوگ فیٹ کے ساتھ ساتھ زیادہ مسل ماس بھی نہیں بنا سکتے، سو یہ پتلے کے ساتھ ساتھ کمزور بھی لگتے ہیں۔ لیکن یہ لوگ اتنی توانائی کا کرتے کیا ہیں ؟ سو واضح رہے کہ ان کا overall میٹابولزم تیز ہوا ہے۔ 
آسکے علاوہ کچھ خوراک زیادہ جلد ہضم ہوتی ہے اور کچھ دیر سے۔ میٹابولزم کا تیز یا سلو ہونا جینیات پھر بھی منحصر ہے اور ہارمونل imbalance پر بھی
اور اس کا الٹ slow میٹابولزم والوں کے ساتھ ہے۔۔۔لیکن زیادہ تر لوگ نارمل ہی ہوتے ہیں۔۔۔۔

What is metabolism?
First thing we do is what is metabolism. For most people, metabolism is the process of digesting food. But the definition of metabolism is broader than that. All the reactions in our body are called metabolism. We can divide these reactions into two types
Number one is catabolism, these are metabolic reactions in which something (a chemical molecule) is broken down. For example, we get energy from food, so in this process we break down large parts of food into smaller parts and then break those parts down into smaller parts and then make energy from them
But we don't just make energy from food, we also make bodies from food. That is, the cells in our cells, the carbohydrates, proteins, and fats they are made of, all come from our food. First, the food is broken down and then these small parts are put together in a different order to form different chemicals that make up the body or play an important role in the body. Combining such small parts to make a bigger part is called anabolism.
So we divide the metabolism into two parts, one is catabolism, in which we break down large and complex molecules to make smaller molecules, while the other one, in which we combine smaller molecules to make larger molecules. These two types of reactions are interdependent. For example, if the food is not broken down, the body will not get the molecules it needs to anabolize to make bigger molecules. Likewise, if there are no large molecules, the enzymes that are formed after anabolism will not be available to break down the food.
Now if we talk about food and obesity, we need food for energy and body growth (anabolism). The food we eat is broken down into molecules and then some of this food is used for energy and some is used to build different structures and the rest is stored. Obesity usually occurs when the food intake is excessive, so its storage also increases, and most of the food is stored in the form of fat and obesity occurs.
It should be noted that obesity came about because the diet was excessive. So if the need for food is increased? That is, if the energy requirement of the body is increased, the food will be used more and less will be stored, and if the food is reduced by increasing the need, then the food will be used which the body has stored, which includes fat. And what is making energy from food? This is metabolism. So when you increase the energy requirement, you are telling the body to increase the metabolism (catabolism). And the body does the same and makes energy from food, including stored fat. How will the need for energy increase? By exercising!!!
But some people do not exercise at all and eat food without caution but do not become fat? So, first of all, we have to see whether they are really living such a life or only we think. So if they really are like that, most of them will be due to increased metabolism.
Now what is meant by fast metabolism? Actually, all the reactions taking place in our body are in the presence of enzymes. Without enzymes, no chemical reaction can take place in the body. That is, our reactions of taking energy from food are also carried out by enzymes. And there are different things/different ways to control the function of these enzymes.
  The first method is that the product that the enzyme is making after the reaction stops the enzyme itself after the product reaches a certain amount. One way is to block enzyme production, and how much enzyme is produced depends on the DNA. Similarly, an important way is to control the action of enzymes by hormones. So when there is any abnormality in these processes, the rate of metabolism either increases or decreases. For example, thyroid hormones control the overall metabolism of our body, when these hormones become excessive (hyperthyroidism), the body's metabolism increases. If it is less than necessary (hypothyroidism), the metabolism slows down.
What happens with increased metabolism? By increasing the metabolism, the food we eat and what we store in the form of fat increases the process of making energy, so neither more fat is stored, which means obesity, nor is it a reason. Such people eat more because they are consuming more food. But such people cannot build more muscle mass along with fat, so they look thin as well as weak. But what do these people do with so much energy? So it should be clear that their overall metabolism has increased.
   
In addition, some foods are digested more quickly and some later. Whether the metabolism is fast or slow still depends on genetics and hormonal imbalance
And the opposite is true for people with slow metabolism. But most people are normal.

Friday, 8 December 2023

دوائیوں کے استعمال سے متعلق عمومی علم

 
 دوائیوں کے استعمال سے متعلق عمومی علم
 
 
 دوائیوں کا صحیح استعمال
دوائیں بیماریوں کا علاج کر سکتی ہیں اور علامات کو ختم کرتی ہیں ، لیکن یہ منفی منفی اثرات کو بھی جنم دیتی ہیں۔ دوائیں کا غلط استعمال صحت کے لئے امکانی خطرہ لاتا ہے۔ لہذا عوام الناس کو ادویات کی افادیت کے بارے میں علم حاصل کرنا چاہئے اور انہیں ڈاکٹروں یا فارماسسٹ کی ہدایت کے مطابق استعمال کرنا چاہئے۔ 
مریضوں کو خوراک کے شیڈول کے مطابق اپنے ڈاکٹر کے ذریعہ دی گئی دواؤں کا استعمال کرنا چاہئے ، اور دوائیوں کی تعدد اور خوراک میں کوئی صوابدیدی اضافہ یا کمی نہیں کرنا چاہئے۔ ضرورت سے زیادہ مقدار میں زہر آلودگی یا یہاں تک کہ موت بھی ہوسکتی ہے ، جبکہ انڈر ڈوز طبی حالات سے نجات نہیں دے سکتا۔ آپ کو مقررہ وقت کے مطابق فالو اپ ملاقاتوں میں شرکت کرنا چاہئے ، اور اپنے ڈاکٹر کو دوائیوں کے بارے میں واضح طور پر اپنے ردعمل کو بتانا چاہئے۔ اس کے بعد ، ڈاکٹر ، آپ کو طبی حالات کے مطا بق ، خوراک کو کم یا زیادہ  کرے گا یا زیادہ مناسب دوائی کا رخ کرے گا۔ ڈاکٹر نے جو ادویات خصوصی طور پر آپ کو تجویز کی ہیں، انھیں دوسروں کو استعمال کرنے کا مشورہ نہ دیں کیونکہ اسی طرح کی علامات ضروری نہیں کہ ایک ہی بیماری کی نمائندگی کریں اور جسمانی حالات افراد میں مختلف ہوکتے ہیں۔ اندھا دھند خود ادویات نہ صرف علاج میں تاخیر کرتی ہے بلکہ منفی منفی اثرات کی وجہ سے صحت کے خطرات کو بھی جنم دیتی ہے۔ 
  
 
دوا سے متعلق مشورے
 
دوائیوں کے عام منفی اثرات میں متلی ، قبض اور چکر آنا شامل ہیں۔ ہر ایک کو ایک جیسے منفی اثرات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا ، اور ان میں سے بیشتر کچھ وقت تک دوا استعمال کرنے کے بعد ختم ہوجائیں گے۔ اگر شک ہو تو ، ڈاکٹر ، فارماسسٹ یا ڈسپنسر سے مشورہ کریں۔ 
مختلف دوائیں ایک دوسرے کے ساتھ مداخلت کر سکتی ہیں اور کچھ غذا کے اثر و رسوخ کے تابع ہوسکتی ہیں ، اور اسی کو ہم "عکسی علامَت" کہتے ہیں۔ مثال کے طور پر ، پرُسکون کرنے والی دواوں کو الکوحل کے مشروبات کے ساتھ نہیں لیا جانا چاہئے۔ لہذا آپ کو طبی مشورے کے دوران اپنے ڈاکٹر کو بتانا چاہئے کہ آپ کون سی دوائیں لے رہے ہیں اور خطرے سے بچنے کے لیبل کے ہدایات کو نوٹ کریں۔ 
 
عام طور پر ، ادویات لینے کے دوران مندرجہ ذیل چیزوں کو ذہن میں رکھنا چاہئے: 
1. اس بارے میں واضح طور پر سمجھ لیں کہ دوائیں کس طرح استعمال کی جائیں )مثال کے طور پر کھا لینی ہے،  زبان کے نیچے رکھنی ہے، نگلنے سے پہلے چبانی ہے ،اندر کو سانس لینے کیساتھ لینی ہے، مستعدی سے داخل کرنی ہے یا خارجی طور پر لگانے وغیرہ کے لئے(۔ 
 
2. ادویات  کا پرچہ غور سے پڑھیں ، اور تفصیلات ، خوراک کی شیڈول ، افادیت ، عکسی علامَت اور منفی اثرات سمیت تفصیلات پر توجہ دیں۔ مثال کے طور پر ، کچھ دوائیں سُستی کا باعث بن سکتی ہیں اور اسی وجہ سے کسی شخص کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے اگر اسے دواؤں کے بعد مشینری چلانی ہو یا کار چلانی پڑے۔ 
 
3. جب تک کہ آپ کے ڈاکٹر کی ہدایت نہ ہو،بییک وقت مختلف دواؤں کا استعمال نہ کریں ،بشمول چینی ادویات اور کھانے والی مانع حمل کے۔ 
 
4. ادویات کے منفی رد عمل جیسے سرخ دانے ، سر درد اور پیٹ میں درد کی صورت میں دوا بند کر دیں اور اپنے ڈاکٹر سے فوری مشورہ کریں۔ 
 
5. حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین کو جب تک ڈاکٹر کے ذریعہ ہدایت نہیں کی جاہیں وہ دوائیں استعمال نہ کریں ، کیونکہ کچھ دوائیں نال یا دودھ میں داخل ہوسکتی ہیں اور جنین یا نوزائیدہ بچے پر مضر اثرات مرتب کرسکتی ہیں۔ 
 
6. دوائیوں کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ چیک کریں اور ختم شدہ یا خراب شدہ دوائیں ترک کردیں۔ 
 
7. عام طور پر دوائیں ٹھنڈی اور خشک جگہ پر رکھنی چاہیے. ، لیکن ان میں سے کچھ ، جیسے انسولین کی مصنوعات اور اینٹی بائیوٹکس ، کو فرج میں رکھنا چاہئے جیسا کہ پرچے پر بتایا گیا ہے۔ دوائیں فریزر کے خانے میں نہ رکھیں ، کیونکہ اس سے افادیت متاثر ہوسکتی ہے۔ بچوں کے ادویات کے غلط استعمال کے خطرے سے بچنے کیلے دوائیں صحیح طور پر محفوظ رکھنی چاہیے۔ 
 
8. زیادہ تر کھانے والی دوائیں جیسے گولیاں پانی سے پوری طرح نگلنی چاہیے.۔ جب تک ڈاکٹر یا صحت سے متعلق ماہرین جیسے ماہر دوا ساز سے مشورہ نہیں لیا جاتا تو اس سے پہلے گولیوں کو ٹکڑوں میں نہ توڑا جائے اور نہ کچلا جائے۔ 
 
 
ادویات کا پرچہ
 
یکم جنوری 1995 سے نافذ ، مریض کیلے ڈاکٹر کے ذریعہ دی گئی دواؤں میں دوائی کا نام اور دیگر متعلقہ معلومات ہونی چاہیے. جس کو دوائی کے تھیلے یا بوتل پر واضح طور پر دکھایا گیا ہو۔ محکمہ صحت اور اسپتال اتھارٹی کے ماتحت کلینک اور اسپتالوں کے لئے ، زیادہ تر ڈسپنسریوں میں کمپیوٹرائزیشن کی گئی ہے اور میڈیسن لیبل پر دی گئی معلومات میں دوا کا نام ، استعمال کا طریقہ ، خوراک ، مریض کا نام ، نسخے کی تاریخ ، کلینک کا نام شامل ہے یا اسپتال اور خصوصی ہدایات ، اگر کوئی ہے۔ اس طرح کی معلومات فراہم کرنے کا مقصد عوام الناس کو ان دوائیوں کے بارے میں معلومات سے آگاہ کرنا ہے جو وہ استعمال کر رہے ہیں تاکہ وہ مناسب استعمال کو یقینی بنائیں اور ہنگامی صورتحال میں صحت کی دیکھ بھال کرنے والے اہلکاروں کے لئے حوالہ اور رابطے کے ذرائع کے طور پر خدمات انجام دیں۔ 
 
 
منشیات کی درجہ بندی اور اختیار 
ہانگ کانگ کے قوانین کے مطابق ، دوائیوں کو ان بیماریوں کی شدت اور ان کے پیدا ہونے والے مضر اثرات کی شدت کے مطابق تین اہم اقسام میں درجہ بندی کی گی ہے۔ اور ان کی وجہ سے ہونے والے مضراثرات کی شدت کے پیش نظر دوائیں مختلف رجسٹرڈ ریٹیلر میں مختلف مخصوص شرائط کے تحت بیچنا پڑینگی جو ذیل میں بتائی گئی ہیں۔ 
 
  زمرہ 1: 
اس زمرے میں موجود دوائیں رجسٹرڈ ماہر دوا ساز کی براہ راست نگرانی میںرجسٹرڈ ڈسپنسریوں میں ڈاکٹر کے نسخے پر تقسیم کی جائے  یا فروخت کی جائیں۔
 مثال کے طورپربلڈ پریشر کو کم کرنے والی دوائیں ، کھانے والی انسولین اورسکون پیدا کرنے والی دوا شامل ہیں "نسخے کی دوائیں" سنگین بیماریوں کے علاجکے لئے استعمال ہوتی ہیں۔ غلط خوراک یا غلط استعمال سے صحت کو شدید نقصانپہنچ سکتا ہے۔ 
رہائش گاہ کے قریب رجسٹرڈ ماہر دوا ساز کے ساتھ ڈسپنسریوں میں ایک سفید رنگکے پس منظر میں ایک سرخ  'Rx' لگا شناختی لوگو آویزاں کیا گیا ہے۔ 
 
 
فارمیسی اور زہر آلودگی آرڈیننس کے مطابق ، زمرہ 1 میں دوائیوں پر "نسخہ دوا" کے الفاظ لکھے جانے چاہئیں۔處方藥物  

  زمرہ 2: 

اس زمرے میں دوائوں کو ڈاکٹر کے نسخے کی ضرورت نہیں ہے لیکن رجسٹرڈماہر دوا ساز کی ہدایت اور نگرانی میں رجسٹرڈ ڈسپنسریوں کو فروخت کیجاے۔ صحت کے خطرات سے بچنے کیلے استعمال اور خوراک کے طریقہ کار پرعمل کرنا چاہئے۔ 
 
 فارمیسی اور زہر آلودگی کے آرڈیننس کے مطابق ، زمرہ 2 میں دوائیوں پر "زیرنگرانی فروخت کے تحت ادویات پر”監督售賣藥物  کے الفاظ لگائے جانےچاہئیں
  
  زمرہ 3:
اس زمرے میں موجود دواؤں کو رہائشی ماہر دوا ساز کے بغیر ڈسپنسریوں یا ادویاتکی دکانوں میں فروخت کیا جاسکتا ہے  مثال کے طور پر عام سردی ، بخاراور دردکم کرنے والی دوائیں شامل ہیں۔ یہ اکثر معمولی بیماریوں کے علاج یا ان کے خاتمےکے لئے استعمال ہوتی ہیں اور ان کے مضر اثرات کم ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود ، عوام الناس کو یہ بات ذہن میں رکھنی ہوگی کہ اس طرح کی دوائیں غلط استعمالکرنے سے غیر مطلوب مضر اثرات بھی پیدا ہوسکتے ہیں۔ اگر شبہ ہو تو ، اپنےڈاکٹر سے مشورہ کریں اور خود سے ادویات لینے سے باز رہیں۔ 
 
ہانگ کانگ کے قوانین کے مطابق ، جو بھی دوائیں فروخت کرنے میں مذکورہ بالا اصولوں کی خلاف ورزی کرتا ہے اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ مجرم کو جرم ثابت ہونے پر جرمانے اور قید کی سزا ہوسکتی ہے ، اور اسے پیشہ ورانہ ہدایت کے خلاف بھی تادیبی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ محکمہ صحت کے ذریعہ ادویات کی غیر قانونی فروخت سے متعلق کسی بھی اطلاع کے لئے ، 2472 ہاٹ لائن پر 2572 2068 پر فون کرنے پر آپ کا خیر مقدم  ہے۔ 
 
 
دوائیوں اور دوائیوں سے متعلق قوانین کے بارے میں عمومی علم 
1. اگر آپ دوائیوں کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ، براہ کرم اس ویب سائٹ پر" Heath Topic " اور" General Knowledge on Medicines " پر دریافت کریں۔ 
 
2. ہانگ کانگ میں دوائیوں سے متعلق قوانین میں "فارمیسی اور زہر کا آرڈیننس" ، "خطرناک منشیات آرڈیننس" اور ان کی ماتحت قانون سازی شامل ہے۔ اگر آپ ہانگ کانگ میں اس طرح کے قوانین کے بارے میں مزید جاننا چاہتے ہیں تو ، براہ کرم متعلقہ قانونی مضامین پر اشاعتوں کے لئے گورنمنٹ پبلیکیشن سینٹر دیکھیں۔ 
 
3. ممنوعہ دواؤں سے متعلق عمومی معلومات کیلیے ، برائے مہربانی نارکوٹکس ڈویژن سے انکوائری ہاٹ لائن کے ذریعے 2366 8822 پر رابطہ کریں۔ 
 
 
ڈرگ آفس محکمہ صحت جون  2017 
General knowledge on the use of medicines
 
 
  Proper use of medications
Medicines can treat diseases and relieve symptoms, but they also cause negative side effects. Misuse of drugs poses potential health risks. So the general public should get knowledge about the efficacy of medicines and use them as directed by doctors or pharmacists.
Patients should use the medication according to the dosage schedule prescribed by their doctor, and should not make any arbitrary increase or decrease in the frequency and dosage of the medication. An overdose can cause poisoning or even death, while an underdose may not relieve medical conditions. You should attend regular follow-up appointments, and clearly communicate your response to the medication to your doctor. After that, the doctor, depending on the medical conditions, will lower or increase the dose or switch to a more suitable drug. Do not recommend others to use medicines that the doctor has prescribed specifically for you as similar symptoms do not necessarily represent the same disease and physical conditions may vary from person to person. Indiscriminate self-medication not only delays treatment but also poses health risks due to adverse side effects.
  
 
Medication advice
Common side effects of the medication include nausea, constipation and dizziness. Not everyone will experience the same side effects, and most of them will go away after using the drug for some time. If in doubt, consult a doctor, pharmacist or dispenser.
Different drugs can interfere with each other and some can be subject to the influence of food, and this is what we call "reflex symptoms". For example, sedatives should not be taken with alcoholic beverages. So you should tell your doctor during the medical consultation which medicines you are taking and note the instructions on the label to avoid risks.
 
In general, the following things should be kept in mind while taking the medication:
1. Have a clear understanding of how the medication is to be taken (eg, to be taken, placed under the tongue, chewed before swallowing, inhaled, administered carefully) or to apply externally etc.
 
2. Read the medication leaflet carefully, and pay attention to the details, including specifications, dosage schedule, efficacy, indications and side effects. For example, some medications can cause drowsiness and therefore put a person at risk if they have to operate machinery or drive a car after taking the medication.
 
3. Do not use different medications at the same time, including Chinese medicine and oral contraceptives, unless directed by your doctor.
 
4. In case of adverse drug reactions such as rash, headache and abdominal pain, stop the medication and consult your doctor immediately.
 
5. Pregnant and lactating women should not use medications unless directed by a doctor, as some medications may pass into the placenta or milk and may have harmful effects on the fetus or newborn.
 
6. Check the expiry date of medicines and discard expired or damaged medicines.
 
7. In general, medicines should be kept in a cool and dry place. , but some of them, such as insulin products and antibiotics, should be refrigerated as directed on the label. Do not keep medicines in the freezer, as this may affect the effectiveness. Medicines should be stored properly to avoid the risk of misuse of medicines by children.
 
8. Most oral medications such as tablets should be swallowed whole with water. Do not break or crush tablets before consulting a doctor or healthcare professional such as a pharmacist.
 
 
Medication leaflet
Effective January 1, 1995, prescriptions prescribed by a patient's doctor must include the name of the drug and other relevant information. which is clearly indicated on the medicine bag or bottle. For clinics and hospitals under the Department of Health and Hospital Authority, most of the dispensaries have been computerized and the information given on the medicine label includes name of medicine, method of administration, dosage, name of patient, date of prescription, name of clinic. Includes or hospital and special instructions, if any. The purpose of providing such information is to inform the public about the drugs they are using to ensure appropriate use and referrals and contacts for health care personnel in an emergency. Serve as sources of
 
 
Drug classification and authorization
According to Hong Kong laws, drugs will be classified into three main categories according to the severity of the diseases and the severity of the side effects they cause. And in view of the severity of side effects caused by them, the drugs will have to be sold in different registered retailers under different specific conditions as mentioned below.

Category 1:
Medicines in this category should be dispensed or sold on the prescription of a doctor in registered dispensaries under the direct supervision of a registered pharmacist.
  Examples include blood pressure-lowering drugs, oral insulin and tranquilizers. "Prescription drugs" are used to treat serious illnesses. Improper consumption or misuse can cause serious damage to health.
A red 'Rx' identification logo on a white background is displayed in dispensaries with a registered pharmacist near the residence.
 
 
According to the Pharmacy and Poisons Ordinance, the words "prescription drug" must be written on drugs in category 1. 處方藥物

   Category 2:

Medicines in this category do not require a doctor's prescription but are sold in registered dispensaries under the direction and supervision of a registered pharmacist. Adequate usage and dosage procedures should be followed to avoid health hazards.
 
  According to the Pharmacy and Poisons Ordinance, drugs in category 2 must be marked with the words "特利售賣藥物" on drugs under supervised sale.
  
Category 3:
Medicines in this category may be sold in dispensaries or drugstores without a resident pharmacist, for example common cold, fever and pain relievers. They are often used to treat or alleviate minor ailments and have fewer side effects. However, the general public should keep in mind that misuse of such drugs can also cause unwanted side effects. If in doubt, consult your doctor and stop self-medicating

2. Laws relating to drugs in Hong Kong include the "Pharmacy and Poisons Ordinance", the "Dangerous Drugs Ordinance" and their subsidiary legislation. If you would like to know more about such laws in Hong Kong, please visit the Government Publication Center for publications on relevant legal subjects.
 
3. For general information on prohibited drugs, please contact the Narcotics Division through the inquiry hotline on 2366 8822.
 
 
Drug Office Department of Health June 2017

لڑکوں وہ عادتیں جن سے لڑکیں سخت نفرت کرتی ہیں

کی وہ عادتیں جو لڑکیوں کو سخت ناپسند ہو سکتی ہیں


بعض اوقات یوں بھی ہوتا ہے کہ کوئی لڑکی مسکراتی ہوئی کسی لڑکے کے ساتھ پہلی ملاقات کے لئے جاتی ہے لیکن پھر بیچارے لڑکے کی لاکھ کوشش کے باوجود دوسری ملاقات کے لئے آمادہ نہیں ہوتی۔ بدقسمت لڑکا سوچتا رہ جاتا ہے کہ آخر اس سے کیاغلطی ہوئی لیکن اسے کچھ سمجھ نہیں آتا۔ دراصل اکثر مرد ان باریک باتوں سے ناواقف ہوتے ہیں جو خواتین کو ان سے متنفر کر سکتی ہیں۔ ویب سائٹ femina.in کی ایک رپورٹ میں کچھ ایسی ہی اہم ترین باتوں سے مردوں کو خبردار کیا گیا ہے

مرد کے ناخن لمبے ہونا ایک ایسی ہی بات ہے جو کسی بھی خاتون کو اس سے دور بھگا سکتی ہے۔ خواتین خود تو لمبے ناخن رکھنا پسند کرتی ہیں لیکن مردوں کے لمبے ناخن انہیں زہر لگتے ہیں۔ خصوصاً اگر لمبے ناخن گندے بھی ہوں تو ایسے مرد سے دوبارہ ملنے کا وہ سوچ بھی نہیں سکتیں۔

پاﺅں سے آنے والی بدبو بھی ایک اور ایسی چیز ہے جو عورت کو کوسوں دور بھگانے کے لئے کافی ہوتی ہے۔ دراصل عورت ہو یا مرد، کوئی بھی پیروں کی بدبو کا سامنا نہیں کرنا چاہتا۔ چونکہ مرد عموماً زیادہ وقت کے لئے بند جوتے پہنے رکھتے ہیں لہٰذا انہیں اس ضمن میں خصوصی احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے کہ ان کی جرابیں صاف ہوں اور پاﺅں پسینے سے محفوظ رہیں تا کہ بدبو کا مسئلہ پیدا نا ہو۔

ایسے مردوں کی کمی نہیں جو یہ بتاتے تھکتے نہیں کہ وہ عورتوں میںکتنے مقبول ہیں۔ مردوں کے سامنے اس طرح کی شیخی بگھارنا انہیں ہیرو بنا سکتا ہے لیکن عورت ایسی باتیں سن کر ان کی حقیقت جان جاتی ہیں اور دوبارہ ملنے سے گریز ہی کرتی ہیں۔

اگر آپ کسی خاتون سے دیرپا تعلق چاہتے ہیں تو اس کی بات غور سے سنیں۔ کچھ مردوں کو عادت ہوتی ہے کہ خود ہی بولتے چلے جاتے ہیں۔ شاید وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی باتیں بہت دلچسپ اور دلفریب ہیں، لیکن اگر آپ خاتون کو سنیں گے نہیں تو وہ آپ سے کنارہ کرنا ہی بہتر سمجھے گی۔

آنکھ سے آنکھ ملا کر بات کریں ورنہ اس بات کی امید نا رکھیں کہ خاتون دوبارہ آپ سے ملنا چاہے گی۔ دراصل آنکھ سے آنکھ ملا کر بات کرنا اعتماد کی نشانی ہے اور آنکھیں چرانا جہاں کمزور شخصیت کی علامت ہے وہیں نیت کے فتور کا اشارہ بھی ہے۔ اگر آپ ہر جانب دیکھ رہے لیکن خاتون سے آنکھ ملانے سے گریز کرتے ہیں تو وہ آپ کو دھوکے باز بھی سمجھ سکتی ہے۔ ایسے مردوں کے لئے دوبارہ ملاقات کا امکان واقعی بہت کم ہوتا ہے۔



Thursday, 7 December 2023

The man who changed himself into a dog by investing 14 thousand dollars failed to pass the 'dog test'

14 ہزار ڈالرز لگاکر خود کو کتے میں تبدیل کرنیوالا شخص 'کتوں کا ٹیسٹ' پاس کرنے میں ناکام


 یہ شخص بظاہر کتا تو بن گیا لیکن وہ کتوں کی مختلف کھیلوں کی سرگرمیوں پر مشتمل ٹیسٹ پاس کرنے میں ناکام ہوگیا_

جاپان سے تعلق رکھنے والے شخص کو اس وقت شدید صدمہ پہنچا جب وہ کتوں کا ٹیسٹ ہی پاس کرنے میں ناکام ہوگیا۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق گزشتہ دنوں ایک جاپانی شخص خبروں کی زینت بنا رہا جس کی وجہ اس کا عجیب و غریب اور منفرد شوق تھا۔

اپنا نام ٹوکو بتانے والے اس شخص کو کتوں سے اتنی محبت اور لگاؤ ہے کہ اس نے خود کو ہی کتے کا روپ دے دیا، اس شخص نے کتے کا روپ دھارنے کے لیے 14 ہزار ڈالرز خرچ کیے۔

رپورٹس کے مطابق مذکورہ شخص نے کچھ عرصہ قبل کتا بننے کے لیے باڈی سوٹس، تھری ڈی ماڈلز اور ملبوسات تیار کرنے والی مشہور  کمپنی سے رابطہ کیا اور 2 ملین ین (14 ہزار ڈالرز سے زائد) کی لاگت سے 40 دنوں میں حقیقت سے قریب تر کتے کا لباس تیار کرنے کا کہا۔

فوٹو اینڈ ویڈیو شیئرنگ ایپ انسٹا گرام پر ٹوکو کے نام اس سے اس شخص کا اکاؤنٹ بنا ہوا ہے جب کہ یوٹیوب اکاؤنٹ پر بھی یہ شخص خود کی کتے جیسے چلنے، کھانے پینے اور دیگر ویڈیوز شیئر کرتا ہے۔

تاہم یہ شخص بظاہر کتا تو بن گیا لیکن وہ کتوں کی مختلف کھیلوں کی سرگرمیوں پر مشتمل ٹیسٹ پاس کرنے میں ناکام ہوگیا۔

اس ٹیسٹ میں مختلف رکاوٹیں لگائی جاتی ہیں جنہیں پار کرتے ہوئے کتے اگلے مراحل کی جانب بڑھتے ہیں، انسٹاگرام اکاؤنٹ پر شیئر کی جانے والی تصاویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ 'ٹوکو' یہ ٹیسٹ پاس کرنے میں کیسے ناکام ہوا۔

The man who changed himself into a dog by investing 14 thousand dollars failed to pass the 'dog test'

This man apparently became a dog, but failed to pass a test involving various canine sporting activities.

A man from Japan was shocked when he failed the dog test.

According to foreign media, a Japanese man was in the news recently because of his strange and unique hobby.

This man, whose name is Tuco, loves and loves dogs so much that he disguised himself as a dog. This man spent 14 thousand dollars to transform into a dog.

According to reports, the man recently contacted a well-known company that produces bodysuits, 3D models and costumes to become a dog and cost 2 million yen (over $14,000) in 40 days. Asked to prepare dog clothes.

The man has an account on the photo and video sharing app Instagram under the name Toko, while the man also has a YouTube account where he shares videos of himself walking his dog, eating and drinking, and more.

However, the man apparently became a dog but failed to pass a test involving various canine sporting activities.

The test consists of various hurdles which the dogs must overcome to advance to the next stages, photos shared on the Instagram account show how 'Toco' failed to pass the test

یوگنڈا میں 70 سالہ خاتون کے ہاں جڑواں بچوں کی پیدائش

 

یوگنڈا میں 70 سالہ خاتون کے ہاں جڑواں بچوں کی پیدائش



سفینہ افریقہ میں جڑواں بچوں کو جنم دینے والی معمر ترین خواتین میں سے ایک ہیں،مقامی میڈیا


کمپالاافریقہ کے ملک یوگنڈا کے ایک ہسپتال میں 70 سالہ خاتون نے مصنوعی طبی طریقے ان وائٹرو فرٹیلیٹی (آئی وی ایف)سے جڑواں بچوں کو جنم دیا ہے۔برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق سفینہ نامکوایا نامی خاتون کے ہاں فرٹیلیٹی سینٹر میں سیزرین کے ذریعے جڑواں بچوں کی پیدائش ہوئی ہے جن میں ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہے۔

مقامی میڈیا کے مطابق سفینہ نامکوایا کا بچوں کو جنم دینا معجزہ تھا، وہ افریقہ میں جڑواں بچوں کو جنم دینے والی معمر ترین خواتین میں سے ایک ہیں۔قبل ازیں 2019 میں 73 سالہ بھارتی خاتون نے آئی وی ایف علاج کے ذریعے جڑواں بچوں کو جنم دیا تھا۔ہسپتال کے ڈاکٹرز نے افریقہ کی 70 سالہ خاتون کے ہاں جڑواں بچوں کی پیدائش کو غیر معمولی کامیابی قرار دیا ہے، ڈاکٹرز کے مطابق ماں اور بچے خیریت سے ہیں
سفینہ نامکوایا نے مقامی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ یہ حمل ان کے لیے مشکل تھا، سفینہ کے پارٹنر کو جڑواں بچوں کا علم ہوا تو وہ انہیں چھوڑ کر چلے گئے تھے۔انہوں نے بتایا کہ مردوں کو پسند نہیں کہ ان کے ہاں ایک سے زائد بچے ہوں، جب سے میں ہسپتال میں داخل ہوئی ہوں میرے پارٹنر مجھ سے ملنے کبھی نہیں آئے۔تین سالوں میں سفینہ نمکوایا کا یہ دوسرا حمل تھا، اس سے قبل 2020 میں ان کے ہاں بیٹی کی پیدائش ہوئی تھی۔

انہوں نے انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ شادی کے بعد انہیں بے اولادی کے طعنے دیے جاتے تھے جس کے بعد ان کی بیٹی ہوئی تھی۔70 سالہ افریقی خاتون کا کہنا تھا کہ میں لوگوں کے بچوں کی دیکھ بھال کرتی تھی وہ بڑے ہوجاتے تو مجھے چھوڑ دیتے تھے، میں سوچتی کہ جب میں بوڑھی ہو جاں گی تو میرا خیال کون رکھے گا۔تاہم یہ واضح نہیں کہ سفینہ نے اپنے ہی انڈے فریز کروا رکھے تھے یا پھر انہوں نے بچوں کی پیدائش کے لیے کسی ڈونر کا استعمال کیا۔یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ عام طور پر خواتین 45 سے 55 سال کی عمر کے درمیان مینوپاز کا شکار ہوجاتی ہیں، جس کی وجہ سے بچوں کو جنم دینے کی صلاحیت ختم ہوجاتی ہے لیکن جدید طبی طریقوں اور علاج کی مدد سے خواتین کے لیے بچوں کو جنم دینا ممکن ہوگیا ہے۔

دنیا کو بدل دینے والی ادویات کیسے ایجاد ہوٸیں

دنیا کو بدل ڈالنے والی پانچ ادویات کیسے ایجاد ہوئیں؟

وہ ادویات جن کے بغیر جدید زندگی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا، ان میں سے ہر ایک کی دریافت کے پیچھے دلچسپ کہانیاں چھپی ہیں۔

بےہوشی کی دوا کی ایجاد سے پہلے لوگ آپریشن کے دوران شاک سے مر جایا کرتے تھے (dynamosquito/flickr, CC BY-SA)

 کسی بھی دوا کے دنیا کی تاریخ پر مرتب کردہ اثرات کا جائزہ پیش کرنا مشکل کام ہے، لیکن یہاں ہم پانچ ایسی ادویات کا ذکر کرنے جا رہے ہیں جن کے بارے میں آسانی سے دعویٰ کیا جا سکتا ہے کہ انہوں نے ہماری زندگیوں کو بہت بڑے پیمانے پر تبدیل کیا اور اکثر ایسے طریقوں سے جو ہمارے وہم و گمان میں بھی نہ تھے۔

یہ ادویات اپنے ساتھ کچھ ناقابل یقین فوائد لائیں۔ لیکن بالعموم ان کی میراث میں فوائد کے ساتھ ساتھ کئی طرح کی پیچیدگیاں بھی شامل ہیں جن کو ہمیں تنقیدی نگاہ سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔

یہ بات اچھی طرح یاد رہنی چاہیے کہ آج جو دوا ہمیں اپنے فوائد سے حیرت میں مبتلا کر رہی ہے وہی کل کو پریشانیوں کا باعث بھی بن سکتی ہے

1: بےہوشی کی دوا

اٹھارویں صدی کے اواخر میں ایک انگریز کیمیا دان جوزف پریسلی نے ایک گیس بنائی جسے اس نے ’فلوجسٹکیٹڈ نائٹرس ایئر‘ (نائٹرس آکسائیڈ) کا نام دیا۔

انگریز کیما دان ہمفری ڈیوی کا خیال تھا کہ اسے سرجری میں درد سے نجات کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے اگرچہ اس کے بجائے بہت جلد یہ ایک تفریحی نشہ بن گئی۔

اس سلسلے میں اگلی بڑی پیش رفت 1834 میں ہوئی جب فرانسیسی کیمیا دان ژاں بیپٹیس دوماس نے ایک نئی گیس کلوروفارم تیار کر لی۔

سکاٹش ڈاکٹر جیمز ینگ سمپسن نے 1847 میں اسے بچے کی پیدائش کے عمل کو آسان بنانے کے لیے استعمال کیا۔

جلد ہی بےہوشی کی دوا کو سرجری کے دوران زیادہ وسیع پیمانے پر استعمال کیا جانے لگا اور اس کے نتائج کافی حوصلہ افزا تھے۔

اینستھیزیا سے پہلے جراحی کا عمل انتہائی تکلیف دہ اور ناقابل برداشت تھا۔ تصور کیجیے کہ ایک جیتے جاگتے شخص کے جسم کی تیز دھار آلات سے چیر پھاڑ کی جا رہی ہے اور پھر سوئی کی نوک سے ٹانکے لگائے جا رہے ہیں۔ یہاں تک کہ مریض اکثر درد کی شدت سے مر جایا کرتے تھے۔

لیکن کوئی بھی دوا جو لوگوں کو بے ہوش کر سکتی ہے وہ نقصان کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ آج بھی بےہوشی کے لیے استعمال ہونے والی ادویات خطرے سے خالی تصور نہیں کی جاتیں کیونکہ یہ اعصابی نظام کی بتی ہمیشہ کے لیے گل کر سکتی ہیں۔

2: پینسلین

1928 میں سکاٹ لینڈ کے ڈاکٹر الیگزینڈر فلیمنگ کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ حادثاتی طور پر دریافت ہونے والی ادویات کے کلاسیکی واقعات کی ایک بہترین مثال ہے۔

فلیمنگ اپنی لیبارٹری کی میز پر سٹریپٹوکوکس نامی بیکٹیریا کی کچھ نمونوں کو چھوڑ کر چھٹی پر چلے گئے۔

جب واپس آئے تو انہوں نے دیکھا کہ ہوا میں موجود پینیسلیم نامی ایک قسم کی پھپھوندی نے اس بیکٹریا کو بڑھنے سے روک دیا ہے۔

انہوں نے اس پھپھوندی سے جو مادہ الگ کیا اسے پینسلین کا نام دیا گیا۔ آسٹریلوی پیتھالوجسٹ ہاورڈ فلوری اور ان کی ٹیم نے پینسلین کو مستحکم کیا اور پہلا انسانی تجربہ کیا۔

امریکہ کی مالی اعانت سے پینسلین کو بڑے پیمانے پر تیار کیا گیا اور دوسری جنگ عظیم کا رخ بدل دیا۔ اس کا استعمال ہزاروں فوجیوں کے علاج کے لیے کیا گیا تھا۔

پینسلین اور اس کی نسل کی ادویات ایک ہی حملے میں لاکھوں لوگوں کی ہلاکت کا باعث بننے والی بیماریوں کے خلاف انتہائی بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔

تاہم ان کے وسیع پیمانے پر استعمال سے کچھ بیکٹیریا دیگر امراض کے علاج میں استعمال ہونے والی ادویات کو موثر نہیں ہونے دیتے۔

فلیمنگ کی انسانیت سے گہری محبت کا اس سے بڑھ کر اظہار کیا ہو سکتا ہے کہ انہوں نے پینسلین کے حقوق اپنے پاس رکھ کر یا اسے فروخت کر کے مال بنانے سے گریز کیا۔

طبی شعبے میں اکثر جب وسیع تر انسانی اخلاقیات کا ذکر ہوتا ہے ان کا یہ قول بقول مثال پیش کیا جاتا ہے کہ ’میں نے پنسلین دریافت کی اور انسانیت کی بھلائی کے لیے مفت میں دے دی۔

بھلا کس لیے اسے دوسرے ملکوں میں صنعت کاروں کی منافع بخش اجارہ داری کی نذر کر دیا جاتا؟‘ 

3: نائٹروگلسرین

نائٹروگلسرین کی ایجاد 1847 میں ہوئی تھی اور اس نے دنیا کے سب سے طاقتور دھماکہ خیز مواد کے طور پر بارود کو پیچھے چھوڑ دیا تھا۔

لیکن بعد میں پتہ چلا کہ یہ تباہ کن مواد یہ سینے میں درد کا باعث بننے والی دل کے امراض سے منسلک بیماری انجائنا کا علاج کرنے والی پہلی جدید دوا کے طور پر بھی استعمال ہو سکتی ہے۔

اس بات کا علم یوں ہوا کہ دھماکہ خیز مواد کا براہ راست سامنا کرنے والے فیکٹری کارکنان کے سر میں درد اور چہرے پر جھریاں پڑنے لگیں۔

جب سائنس دانوں نے تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ نائٹروگلسرین ایک ویزوڈائلیٹر ہے یعنی یہ خون کی نالیوں کو پھیلاتا یا کھلا کر دیتی ہے۔

لندن کے معالج ولیم موریل نے اپنے اوپر نائٹروگلسرین کا تجربہ کیا اور اسے انجائنا کے مریضوں پر آزمایا، جس سے انہیں تقریباً فوری آرام مل گیا۔

نائٹروگلسرین نے انجائنا میں مبتلا لاکھوں لوگوں کے لیے نسبتاً معمول کی زندگی گزارنا ممکن بنایا۔

اس نے بلڈ پریشر کو کم کرنے والی، دل کی دھڑکن کو معمول پر لانے والی اور خون میں کولیسٹرول کی مقدار گھٹانے والی ادویات سمیت ایسی کئی دیگر دوائیوں کی بھی راہ ہموار کی۔ ان ادویات نے مغربی ممالک میں زندگی کو بڑھایا اور اوسط عمر میں اضافہ کیا ہے۔

لیکن چونکہ لوگوں کی زندگیاں طویل ہو گئی ہیں اس لیے اب کینسر اور دیگر غیر متعدی بیماریوں سے اموات کی شرح زیادہ ہو گئی ہے۔ کیونکہ بڑھتی عمر کے ساتھ بہت سے انسانی خلیے غیر فعال ہو کر زہریلے مادوں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں اور بالآخر موزی امراض ہمیں موت کی طرف تیزی سے دھکیلنے لگتی ہیں۔ بہرحال ہم کہہ سکتے ہیں کہ نائٹروگلسرین نے دنیا کو ایسے بدلا جیسے کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔

4: مانع حمل گولی

1920 کی دہائی کے اوائل میں آسٹریا کے سائنس دان لوڈوگ ہیبرلینڈ نے ایک تحقیقی مقالے میں بتایا کہ کس طرح جانوروں میں ہارمونز کے اتار چڑھاؤ سے حمل کو روکا جا سکتا ہے۔

انہیں اپنے ساتھیوں کی شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا لیکن اس کے باوجود انہوں نے مادہ خرگوش پر اپنے تجربات کیے۔ 1932 میں ان کی مبینہ خودکشی سے یہ باب وہیں بند ہو گیا۔ چند دہائیوں بعد امریکہ میں ایسے تجربات زیادہ مؤثر طریقے سے کیے گئے۔

شرح پیدائش کم کرنے کے زبردست حامی اور امریکہ سے تعلق رکھنے والی مصنفہ مارگریٹ سینگر نے محقق گریگری پنکس سے ایسی دوا تیار کرنے کے لیے کہا جو ہارمونل مانع حمل ہو۔

اس کے لیے مالی اعانت کیتھرین میک کورمک  نے پیش کی تھی جنہیں وراثت میں کثیر سرمایہ منتقل ہوا تھا۔

اپنی تحقیق کے نتیجے میں پنکس کو معلوم ہوا کہ پروجیسٹرون بیضہ دانی میں سے انڈے کے اخراج کو روکتا ہے جسے انہوں  نے آزمائشی گولی تیار کرنے کے لیے استعمال کیا۔

کلینیکل ٹرائلز خاص طور پر پورٹو ریکو میں کمزور طبقے سے تعلق رکھنے والی خواتین پر کیے گئے جس پر تشویش کا اظہار کیا گیا کہ انہیں پہلے سے اس کے فوائد، خطرات اور ضمنی مضر اثرات سے آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔

نئی دوا امریکہ کی فوڈ اینڈ ڈرگ انتظامیہ کی منظوری کے بعد جی ڈی سرل اینڈ کمپنی کی طرف سے 1960 میں اینوئڈ کے نام کے ساتھ مارکیٹ میں پیش کی گئی۔

اس کی اجازت اس لیے دی گئی کہ حمل کے نتیجے میں پیدا ہونے والے خطرات کے مقابلے میں اس کے خون کو گاڑھا کرنے اور فالج جیسے ضمنی خطرات کئی درجے کم مہلک تھے۔

 مانع حمل ادویات کے استعمال اور اس کے سنگین سائیڈ ایفیکٹس کے درمیان ربط کو ثابت کرنے میں دس برس لگ گئے۔

1970 میں امریکہ کی حکومتی سطح پر ہونے والی انکوائری کے بعد اس گولی کے ہارمونز کی سطح ڈرامائی طور پر کم کر دی گئی۔

اس کے نتیجے میں ایک اور چیز بھی ہوئی کہ اب کسی بھی خریدار کو ہر پیکٹ کے اندر ایک معلوماتی پرچہ ملتا جس پر اس کا مکمل نسخہ درج ہوتا۔

اس گولی نے عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی آبادی کے خلاف انتہائی موثر کردار ادا کیا جس کے بعد خاندان مختصر اور معاشی طور پر زیادہ مستحکم ہوئے کیونکہ خواتین کے لیے ملازمتیں کرنا آسان ہو گیا اور ایک نئی افرادی قوت میسر آئی۔

تاہم آج بھی یہ سوالات اپنی جگہ موجود اور جواب طلب ہیں کہ کس طرح طب کے پیشے نے خاص طور پر پورٹو ریکو میں کمزور طبقے کی خواتین کے جسموں پر پیشگی اجازت اور ممکنہ ضمنی مضر اثرات سے آگاہ کیے بغیر تجربات کیے۔

5 ڈائزیپام

اعصابی نظام کو پرسکون کرنے والی ادویات کی ایک قسم بینزو ڈائزاپین (benzodiazepine) پہلی مرتبہ 1955 میں تیار کی گئی تھی اور دوا ساز کمپنی ہاف مین لا روش نے اسے ’لبریم‘ (Librium) کے طور پر مارکیٹ میں متعارف کروایا تھا۔

 یہ اور اس قسم کی باقی ادوایات بے چینی کے ’علاج‘ کے طور پر فروخت نہیں کی گئی تھیں۔ بلکہ ان کا استعمال سائیکو تھراپی میں مشغول رکھنے کے لیے کیا گیا تھا یعنی سائیکو تھراپی حقیقی حل تصور کی گئی تھی اور یہ اسے تکمیل تک پہنچانے میں محض معاون تھی۔

پولش امریکن کیمیا دان لیو سٹرن باخ اور ان کے ریسرچ گروپ نے 1959 میں لبریم کو کیمیائی طور پر تبدیل کیا اور ایک زیادہ طاقت ور دوا کے روپ میں بدل ڈالا۔ اس طرح ڈائزیپام وجود میں آئی جس کی تشہیر 1963 سے ’ویلیم‘ کے برینڈ نام سے فروخت کی جانے لگی۔

اس طرح کی آسانی سے دستیاب ہونے والی اور کم قیمت ادویات نے گہرے اثرات مرتب کیے۔ 1969 سے لے کر 1982 تک امریکہ میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والی دوا ویلیز ہی تھی۔

ان ادوایات نے ایک پورے نئے کلچر کی بنیاد رکھی۔ اب لوگ ادویات کے ذریعے تناؤ اور اضطراب پر قابو پانے لگے۔

ویلیم نے اعصابی نظام کو پرسکون کر کے اضطراب اور تناؤ سے نجات دلانے والی جدید ادویات کا راستہ ہموار کیا۔

ان نئی ادویات کی بھاری مقدار لینا زیادہ مشکل (مگر ناممکن نہیں) تھا اور ان کے ضمنی مضر اثرات کم تھے۔ فلوکسیٹین (Fluoxetine) پہلی Selective serotonin reuptake inhibitor تھی جسے 1987 میں ’پروزیک‘ Prozac کے نام سے مارکیٹ میں پیش کیا گیا۔  

نوٹ: یہ تحریر پہلے ’دا کنورسیشن‘ پر شائع ہوئی تھی اور یہاں اس کا ترجمہ اجازت سے پیش کیا جا رہا ہے۔ اس کی مصنفہ فلیپا مارٹائر یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا میں فارماکالوجی کی لیکچرر ہیں۔

💕 General knowledge Interesting information 🍄 جنرل نالج دلچسپ معلومات 🍄


💕 جنرل نالج دلچسپ معلومات 🍄🌷
جنرل نالج دلچسپ معلومات
سوال1: ایسا کون سا جانور ہے جس کے دانت ساری عمر بڑھتے رہتے ہیں؟
جواب: ہاتھی اور چوہا

سوال 2: وہ کون سا جانور ہے جو ناک اور منہ کے علاوہ کھال سے بھی سانس لیتا ہے؟
جواب: مینڈک

سوال 3: وہ کون سا ملک ہے جہاں پیدا ہوتے ہی بچے کی عمر نو ماہ لکھ دی جاتی ہے؟
جواب: جاپان

سوال 4: وہ کون سا پتھر ہے جو پانی میں نہیں ڈوبتا؟
جواب: جھاواں پتھر

سوال 5: کس درخت کی جڑیں سب سے زیادہ گہری ہوتی ہیں؟
جواب: جنگی انجیر کی

سوال 6: دنیا کا سب سے بڑا صنعتی شہر کون سا ہے؟
جواب: شنگھائی

سوال7: دریاؤں کا مالک کس ملک کو کہا جاتا ہے؟
جواب: بنگلہ دیش

سوال8: سب سے پہلے نوٹوں کا آغاز کس ملک سے ہوا؟
جواب: چین

سوال9: دنیا میں سب سے بڑی سونے کی کانیں کہاں ہیں؟
جواب: جنوبی افریقہ کے شہر جوہنس برگ میں

سوال10: دنیا کے کس ملک کے ہر مرد اور عورت پڑھے لکھے ہیں؟
جواب: ڈنمارک

سوال11: بھیڑیا کس ملک کا قومی نشان یے؟
جواب: ترکی

سوال12: دنیا میں سب سے زیادہ بکنے والی کون سی چیز ہے؟
جواب: سگریٹ

سوال 13: وہ کون سا جاندار ہے جس کے دو دماغ ہوتے ہیں؟
جواب: بندر

سوال14: دنیا کی سب سے بڑی معیشت کونسی ہے؟
جواب: امریکہ

سوال 15: وہ کون سا درخت ہے جس کا تنا بہت موٹا بھی ہو سکتا ہے مگر اس میں لکڑی نہیں ہوتی؟
جواب: کیلے کا...

💕 General knowledge Interesting information 🍄
Question 1: Which animal has its teeth growing throughout its life?
Answer: Elephant and mouse

Question 2: Which animal breathes through skin apart from nose and mouth?
Answer: Frog

Question 3: Which is the country where the child's age is recorded as nine months at birth?
Answer: Japan

Question 4: Which is the stone that does not sink in water?
Answer: Stone

Question 5: Which tree has the deepest roots?
Answer: Of war figs

Question 6: Which is the largest industrial city in the world?
Answer: Shanghai

Question 7: Which country is called the owner of rivers?
Answer: Bangladesh

Question 8: From which country did the notes first start?
Answer: China

Question 9: Where are the biggest gold mines in the world?
Answer: In Johannesburg, South Africa

Question 10: In which country of the world are every man and woman educated?
Answer: Denmark

Question 11: Wolf is the national symbol of which country?
Answer: Turkey

Question 12: Which is the most sold item in the world?
Answer: Cigarettes

Question 13: Which organism has two brains?
Answer: Monkey

Question 14: Which is the largest economy in the world?
Answer: America

Question 15: Which is the tree whose trunk can be very thick but does not contain wood?
Answer: Banana...

Xxxxxxx

    انجواۓ کلک Enjoyment click Today enjoy click So enjoy your life