Ads

   

Thursday, 7 December 2023

The man who changed himself into a dog by investing 14 thousand dollars failed to pass the 'dog test'

14 ہزار ڈالرز لگاکر خود کو کتے میں تبدیل کرنیوالا شخص 'کتوں کا ٹیسٹ' پاس کرنے میں ناکام


 یہ شخص بظاہر کتا تو بن گیا لیکن وہ کتوں کی مختلف کھیلوں کی سرگرمیوں پر مشتمل ٹیسٹ پاس کرنے میں ناکام ہوگیا_

جاپان سے تعلق رکھنے والے شخص کو اس وقت شدید صدمہ پہنچا جب وہ کتوں کا ٹیسٹ ہی پاس کرنے میں ناکام ہوگیا۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق گزشتہ دنوں ایک جاپانی شخص خبروں کی زینت بنا رہا جس کی وجہ اس کا عجیب و غریب اور منفرد شوق تھا۔

اپنا نام ٹوکو بتانے والے اس شخص کو کتوں سے اتنی محبت اور لگاؤ ہے کہ اس نے خود کو ہی کتے کا روپ دے دیا، اس شخص نے کتے کا روپ دھارنے کے لیے 14 ہزار ڈالرز خرچ کیے۔

رپورٹس کے مطابق مذکورہ شخص نے کچھ عرصہ قبل کتا بننے کے لیے باڈی سوٹس، تھری ڈی ماڈلز اور ملبوسات تیار کرنے والی مشہور  کمپنی سے رابطہ کیا اور 2 ملین ین (14 ہزار ڈالرز سے زائد) کی لاگت سے 40 دنوں میں حقیقت سے قریب تر کتے کا لباس تیار کرنے کا کہا۔

فوٹو اینڈ ویڈیو شیئرنگ ایپ انسٹا گرام پر ٹوکو کے نام اس سے اس شخص کا اکاؤنٹ بنا ہوا ہے جب کہ یوٹیوب اکاؤنٹ پر بھی یہ شخص خود کی کتے جیسے چلنے، کھانے پینے اور دیگر ویڈیوز شیئر کرتا ہے۔

تاہم یہ شخص بظاہر کتا تو بن گیا لیکن وہ کتوں کی مختلف کھیلوں کی سرگرمیوں پر مشتمل ٹیسٹ پاس کرنے میں ناکام ہوگیا۔

اس ٹیسٹ میں مختلف رکاوٹیں لگائی جاتی ہیں جنہیں پار کرتے ہوئے کتے اگلے مراحل کی جانب بڑھتے ہیں، انسٹاگرام اکاؤنٹ پر شیئر کی جانے والی تصاویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ 'ٹوکو' یہ ٹیسٹ پاس کرنے میں کیسے ناکام ہوا۔

The man who changed himself into a dog by investing 14 thousand dollars failed to pass the 'dog test'

This man apparently became a dog, but failed to pass a test involving various canine sporting activities.

A man from Japan was shocked when he failed the dog test.

According to foreign media, a Japanese man was in the news recently because of his strange and unique hobby.

This man, whose name is Tuco, loves and loves dogs so much that he disguised himself as a dog. This man spent 14 thousand dollars to transform into a dog.

According to reports, the man recently contacted a well-known company that produces bodysuits, 3D models and costumes to become a dog and cost 2 million yen (over $14,000) in 40 days. Asked to prepare dog clothes.

The man has an account on the photo and video sharing app Instagram under the name Toko, while the man also has a YouTube account where he shares videos of himself walking his dog, eating and drinking, and more.

However, the man apparently became a dog but failed to pass a test involving various canine sporting activities.

The test consists of various hurdles which the dogs must overcome to advance to the next stages, photos shared on the Instagram account show how 'Toco' failed to pass the test

یوگنڈا میں 70 سالہ خاتون کے ہاں جڑواں بچوں کی پیدائش

 

یوگنڈا میں 70 سالہ خاتون کے ہاں جڑواں بچوں کی پیدائش



سفینہ افریقہ میں جڑواں بچوں کو جنم دینے والی معمر ترین خواتین میں سے ایک ہیں،مقامی میڈیا


کمپالاافریقہ کے ملک یوگنڈا کے ایک ہسپتال میں 70 سالہ خاتون نے مصنوعی طبی طریقے ان وائٹرو فرٹیلیٹی (آئی وی ایف)سے جڑواں بچوں کو جنم دیا ہے۔برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق سفینہ نامکوایا نامی خاتون کے ہاں فرٹیلیٹی سینٹر میں سیزرین کے ذریعے جڑواں بچوں کی پیدائش ہوئی ہے جن میں ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہے۔

مقامی میڈیا کے مطابق سفینہ نامکوایا کا بچوں کو جنم دینا معجزہ تھا، وہ افریقہ میں جڑواں بچوں کو جنم دینے والی معمر ترین خواتین میں سے ایک ہیں۔قبل ازیں 2019 میں 73 سالہ بھارتی خاتون نے آئی وی ایف علاج کے ذریعے جڑواں بچوں کو جنم دیا تھا۔ہسپتال کے ڈاکٹرز نے افریقہ کی 70 سالہ خاتون کے ہاں جڑواں بچوں کی پیدائش کو غیر معمولی کامیابی قرار دیا ہے، ڈاکٹرز کے مطابق ماں اور بچے خیریت سے ہیں
سفینہ نامکوایا نے مقامی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ یہ حمل ان کے لیے مشکل تھا، سفینہ کے پارٹنر کو جڑواں بچوں کا علم ہوا تو وہ انہیں چھوڑ کر چلے گئے تھے۔انہوں نے بتایا کہ مردوں کو پسند نہیں کہ ان کے ہاں ایک سے زائد بچے ہوں، جب سے میں ہسپتال میں داخل ہوئی ہوں میرے پارٹنر مجھ سے ملنے کبھی نہیں آئے۔تین سالوں میں سفینہ نمکوایا کا یہ دوسرا حمل تھا، اس سے قبل 2020 میں ان کے ہاں بیٹی کی پیدائش ہوئی تھی۔

انہوں نے انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ شادی کے بعد انہیں بے اولادی کے طعنے دیے جاتے تھے جس کے بعد ان کی بیٹی ہوئی تھی۔70 سالہ افریقی خاتون کا کہنا تھا کہ میں لوگوں کے بچوں کی دیکھ بھال کرتی تھی وہ بڑے ہوجاتے تو مجھے چھوڑ دیتے تھے، میں سوچتی کہ جب میں بوڑھی ہو جاں گی تو میرا خیال کون رکھے گا۔تاہم یہ واضح نہیں کہ سفینہ نے اپنے ہی انڈے فریز کروا رکھے تھے یا پھر انہوں نے بچوں کی پیدائش کے لیے کسی ڈونر کا استعمال کیا۔یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ عام طور پر خواتین 45 سے 55 سال کی عمر کے درمیان مینوپاز کا شکار ہوجاتی ہیں، جس کی وجہ سے بچوں کو جنم دینے کی صلاحیت ختم ہوجاتی ہے لیکن جدید طبی طریقوں اور علاج کی مدد سے خواتین کے لیے بچوں کو جنم دینا ممکن ہوگیا ہے۔

دنیا کو بدل دینے والی ادویات کیسے ایجاد ہوٸیں

دنیا کو بدل ڈالنے والی پانچ ادویات کیسے ایجاد ہوئیں؟

وہ ادویات جن کے بغیر جدید زندگی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا، ان میں سے ہر ایک کی دریافت کے پیچھے دلچسپ کہانیاں چھپی ہیں۔

بےہوشی کی دوا کی ایجاد سے پہلے لوگ آپریشن کے دوران شاک سے مر جایا کرتے تھے (dynamosquito/flickr, CC BY-SA)

 کسی بھی دوا کے دنیا کی تاریخ پر مرتب کردہ اثرات کا جائزہ پیش کرنا مشکل کام ہے، لیکن یہاں ہم پانچ ایسی ادویات کا ذکر کرنے جا رہے ہیں جن کے بارے میں آسانی سے دعویٰ کیا جا سکتا ہے کہ انہوں نے ہماری زندگیوں کو بہت بڑے پیمانے پر تبدیل کیا اور اکثر ایسے طریقوں سے جو ہمارے وہم و گمان میں بھی نہ تھے۔

یہ ادویات اپنے ساتھ کچھ ناقابل یقین فوائد لائیں۔ لیکن بالعموم ان کی میراث میں فوائد کے ساتھ ساتھ کئی طرح کی پیچیدگیاں بھی شامل ہیں جن کو ہمیں تنقیدی نگاہ سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔

یہ بات اچھی طرح یاد رہنی چاہیے کہ آج جو دوا ہمیں اپنے فوائد سے حیرت میں مبتلا کر رہی ہے وہی کل کو پریشانیوں کا باعث بھی بن سکتی ہے

1: بےہوشی کی دوا

اٹھارویں صدی کے اواخر میں ایک انگریز کیمیا دان جوزف پریسلی نے ایک گیس بنائی جسے اس نے ’فلوجسٹکیٹڈ نائٹرس ایئر‘ (نائٹرس آکسائیڈ) کا نام دیا۔

انگریز کیما دان ہمفری ڈیوی کا خیال تھا کہ اسے سرجری میں درد سے نجات کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے اگرچہ اس کے بجائے بہت جلد یہ ایک تفریحی نشہ بن گئی۔

اس سلسلے میں اگلی بڑی پیش رفت 1834 میں ہوئی جب فرانسیسی کیمیا دان ژاں بیپٹیس دوماس نے ایک نئی گیس کلوروفارم تیار کر لی۔

سکاٹش ڈاکٹر جیمز ینگ سمپسن نے 1847 میں اسے بچے کی پیدائش کے عمل کو آسان بنانے کے لیے استعمال کیا۔

جلد ہی بےہوشی کی دوا کو سرجری کے دوران زیادہ وسیع پیمانے پر استعمال کیا جانے لگا اور اس کے نتائج کافی حوصلہ افزا تھے۔

اینستھیزیا سے پہلے جراحی کا عمل انتہائی تکلیف دہ اور ناقابل برداشت تھا۔ تصور کیجیے کہ ایک جیتے جاگتے شخص کے جسم کی تیز دھار آلات سے چیر پھاڑ کی جا رہی ہے اور پھر سوئی کی نوک سے ٹانکے لگائے جا رہے ہیں۔ یہاں تک کہ مریض اکثر درد کی شدت سے مر جایا کرتے تھے۔

لیکن کوئی بھی دوا جو لوگوں کو بے ہوش کر سکتی ہے وہ نقصان کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ آج بھی بےہوشی کے لیے استعمال ہونے والی ادویات خطرے سے خالی تصور نہیں کی جاتیں کیونکہ یہ اعصابی نظام کی بتی ہمیشہ کے لیے گل کر سکتی ہیں۔

2: پینسلین

1928 میں سکاٹ لینڈ کے ڈاکٹر الیگزینڈر فلیمنگ کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ حادثاتی طور پر دریافت ہونے والی ادویات کے کلاسیکی واقعات کی ایک بہترین مثال ہے۔

فلیمنگ اپنی لیبارٹری کی میز پر سٹریپٹوکوکس نامی بیکٹیریا کی کچھ نمونوں کو چھوڑ کر چھٹی پر چلے گئے۔

جب واپس آئے تو انہوں نے دیکھا کہ ہوا میں موجود پینیسلیم نامی ایک قسم کی پھپھوندی نے اس بیکٹریا کو بڑھنے سے روک دیا ہے۔

انہوں نے اس پھپھوندی سے جو مادہ الگ کیا اسے پینسلین کا نام دیا گیا۔ آسٹریلوی پیتھالوجسٹ ہاورڈ فلوری اور ان کی ٹیم نے پینسلین کو مستحکم کیا اور پہلا انسانی تجربہ کیا۔

امریکہ کی مالی اعانت سے پینسلین کو بڑے پیمانے پر تیار کیا گیا اور دوسری جنگ عظیم کا رخ بدل دیا۔ اس کا استعمال ہزاروں فوجیوں کے علاج کے لیے کیا گیا تھا۔

پینسلین اور اس کی نسل کی ادویات ایک ہی حملے میں لاکھوں لوگوں کی ہلاکت کا باعث بننے والی بیماریوں کے خلاف انتہائی بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔

تاہم ان کے وسیع پیمانے پر استعمال سے کچھ بیکٹیریا دیگر امراض کے علاج میں استعمال ہونے والی ادویات کو موثر نہیں ہونے دیتے۔

فلیمنگ کی انسانیت سے گہری محبت کا اس سے بڑھ کر اظہار کیا ہو سکتا ہے کہ انہوں نے پینسلین کے حقوق اپنے پاس رکھ کر یا اسے فروخت کر کے مال بنانے سے گریز کیا۔

طبی شعبے میں اکثر جب وسیع تر انسانی اخلاقیات کا ذکر ہوتا ہے ان کا یہ قول بقول مثال پیش کیا جاتا ہے کہ ’میں نے پنسلین دریافت کی اور انسانیت کی بھلائی کے لیے مفت میں دے دی۔

بھلا کس لیے اسے دوسرے ملکوں میں صنعت کاروں کی منافع بخش اجارہ داری کی نذر کر دیا جاتا؟‘ 

3: نائٹروگلسرین

نائٹروگلسرین کی ایجاد 1847 میں ہوئی تھی اور اس نے دنیا کے سب سے طاقتور دھماکہ خیز مواد کے طور پر بارود کو پیچھے چھوڑ دیا تھا۔

لیکن بعد میں پتہ چلا کہ یہ تباہ کن مواد یہ سینے میں درد کا باعث بننے والی دل کے امراض سے منسلک بیماری انجائنا کا علاج کرنے والی پہلی جدید دوا کے طور پر بھی استعمال ہو سکتی ہے۔

اس بات کا علم یوں ہوا کہ دھماکہ خیز مواد کا براہ راست سامنا کرنے والے فیکٹری کارکنان کے سر میں درد اور چہرے پر جھریاں پڑنے لگیں۔

جب سائنس دانوں نے تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ نائٹروگلسرین ایک ویزوڈائلیٹر ہے یعنی یہ خون کی نالیوں کو پھیلاتا یا کھلا کر دیتی ہے۔

لندن کے معالج ولیم موریل نے اپنے اوپر نائٹروگلسرین کا تجربہ کیا اور اسے انجائنا کے مریضوں پر آزمایا، جس سے انہیں تقریباً فوری آرام مل گیا۔

نائٹروگلسرین نے انجائنا میں مبتلا لاکھوں لوگوں کے لیے نسبتاً معمول کی زندگی گزارنا ممکن بنایا۔

اس نے بلڈ پریشر کو کم کرنے والی، دل کی دھڑکن کو معمول پر لانے والی اور خون میں کولیسٹرول کی مقدار گھٹانے والی ادویات سمیت ایسی کئی دیگر دوائیوں کی بھی راہ ہموار کی۔ ان ادویات نے مغربی ممالک میں زندگی کو بڑھایا اور اوسط عمر میں اضافہ کیا ہے۔

لیکن چونکہ لوگوں کی زندگیاں طویل ہو گئی ہیں اس لیے اب کینسر اور دیگر غیر متعدی بیماریوں سے اموات کی شرح زیادہ ہو گئی ہے۔ کیونکہ بڑھتی عمر کے ساتھ بہت سے انسانی خلیے غیر فعال ہو کر زہریلے مادوں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں اور بالآخر موزی امراض ہمیں موت کی طرف تیزی سے دھکیلنے لگتی ہیں۔ بہرحال ہم کہہ سکتے ہیں کہ نائٹروگلسرین نے دنیا کو ایسے بدلا جیسے کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔

4: مانع حمل گولی

1920 کی دہائی کے اوائل میں آسٹریا کے سائنس دان لوڈوگ ہیبرلینڈ نے ایک تحقیقی مقالے میں بتایا کہ کس طرح جانوروں میں ہارمونز کے اتار چڑھاؤ سے حمل کو روکا جا سکتا ہے۔

انہیں اپنے ساتھیوں کی شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا لیکن اس کے باوجود انہوں نے مادہ خرگوش پر اپنے تجربات کیے۔ 1932 میں ان کی مبینہ خودکشی سے یہ باب وہیں بند ہو گیا۔ چند دہائیوں بعد امریکہ میں ایسے تجربات زیادہ مؤثر طریقے سے کیے گئے۔

شرح پیدائش کم کرنے کے زبردست حامی اور امریکہ سے تعلق رکھنے والی مصنفہ مارگریٹ سینگر نے محقق گریگری پنکس سے ایسی دوا تیار کرنے کے لیے کہا جو ہارمونل مانع حمل ہو۔

اس کے لیے مالی اعانت کیتھرین میک کورمک  نے پیش کی تھی جنہیں وراثت میں کثیر سرمایہ منتقل ہوا تھا۔

اپنی تحقیق کے نتیجے میں پنکس کو معلوم ہوا کہ پروجیسٹرون بیضہ دانی میں سے انڈے کے اخراج کو روکتا ہے جسے انہوں  نے آزمائشی گولی تیار کرنے کے لیے استعمال کیا۔

کلینیکل ٹرائلز خاص طور پر پورٹو ریکو میں کمزور طبقے سے تعلق رکھنے والی خواتین پر کیے گئے جس پر تشویش کا اظہار کیا گیا کہ انہیں پہلے سے اس کے فوائد، خطرات اور ضمنی مضر اثرات سے آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔

نئی دوا امریکہ کی فوڈ اینڈ ڈرگ انتظامیہ کی منظوری کے بعد جی ڈی سرل اینڈ کمپنی کی طرف سے 1960 میں اینوئڈ کے نام کے ساتھ مارکیٹ میں پیش کی گئی۔

اس کی اجازت اس لیے دی گئی کہ حمل کے نتیجے میں پیدا ہونے والے خطرات کے مقابلے میں اس کے خون کو گاڑھا کرنے اور فالج جیسے ضمنی خطرات کئی درجے کم مہلک تھے۔

 مانع حمل ادویات کے استعمال اور اس کے سنگین سائیڈ ایفیکٹس کے درمیان ربط کو ثابت کرنے میں دس برس لگ گئے۔

1970 میں امریکہ کی حکومتی سطح پر ہونے والی انکوائری کے بعد اس گولی کے ہارمونز کی سطح ڈرامائی طور پر کم کر دی گئی۔

اس کے نتیجے میں ایک اور چیز بھی ہوئی کہ اب کسی بھی خریدار کو ہر پیکٹ کے اندر ایک معلوماتی پرچہ ملتا جس پر اس کا مکمل نسخہ درج ہوتا۔

اس گولی نے عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی آبادی کے خلاف انتہائی موثر کردار ادا کیا جس کے بعد خاندان مختصر اور معاشی طور پر زیادہ مستحکم ہوئے کیونکہ خواتین کے لیے ملازمتیں کرنا آسان ہو گیا اور ایک نئی افرادی قوت میسر آئی۔

تاہم آج بھی یہ سوالات اپنی جگہ موجود اور جواب طلب ہیں کہ کس طرح طب کے پیشے نے خاص طور پر پورٹو ریکو میں کمزور طبقے کی خواتین کے جسموں پر پیشگی اجازت اور ممکنہ ضمنی مضر اثرات سے آگاہ کیے بغیر تجربات کیے۔

5 ڈائزیپام

اعصابی نظام کو پرسکون کرنے والی ادویات کی ایک قسم بینزو ڈائزاپین (benzodiazepine) پہلی مرتبہ 1955 میں تیار کی گئی تھی اور دوا ساز کمپنی ہاف مین لا روش نے اسے ’لبریم‘ (Librium) کے طور پر مارکیٹ میں متعارف کروایا تھا۔

 یہ اور اس قسم کی باقی ادوایات بے چینی کے ’علاج‘ کے طور پر فروخت نہیں کی گئی تھیں۔ بلکہ ان کا استعمال سائیکو تھراپی میں مشغول رکھنے کے لیے کیا گیا تھا یعنی سائیکو تھراپی حقیقی حل تصور کی گئی تھی اور یہ اسے تکمیل تک پہنچانے میں محض معاون تھی۔

پولش امریکن کیمیا دان لیو سٹرن باخ اور ان کے ریسرچ گروپ نے 1959 میں لبریم کو کیمیائی طور پر تبدیل کیا اور ایک زیادہ طاقت ور دوا کے روپ میں بدل ڈالا۔ اس طرح ڈائزیپام وجود میں آئی جس کی تشہیر 1963 سے ’ویلیم‘ کے برینڈ نام سے فروخت کی جانے لگی۔

اس طرح کی آسانی سے دستیاب ہونے والی اور کم قیمت ادویات نے گہرے اثرات مرتب کیے۔ 1969 سے لے کر 1982 تک امریکہ میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والی دوا ویلیز ہی تھی۔

ان ادوایات نے ایک پورے نئے کلچر کی بنیاد رکھی۔ اب لوگ ادویات کے ذریعے تناؤ اور اضطراب پر قابو پانے لگے۔

ویلیم نے اعصابی نظام کو پرسکون کر کے اضطراب اور تناؤ سے نجات دلانے والی جدید ادویات کا راستہ ہموار کیا۔

ان نئی ادویات کی بھاری مقدار لینا زیادہ مشکل (مگر ناممکن نہیں) تھا اور ان کے ضمنی مضر اثرات کم تھے۔ فلوکسیٹین (Fluoxetine) پہلی Selective serotonin reuptake inhibitor تھی جسے 1987 میں ’پروزیک‘ Prozac کے نام سے مارکیٹ میں پیش کیا گیا۔  

نوٹ: یہ تحریر پہلے ’دا کنورسیشن‘ پر شائع ہوئی تھی اور یہاں اس کا ترجمہ اجازت سے پیش کیا جا رہا ہے۔ اس کی مصنفہ فلیپا مارٹائر یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا میں فارماکالوجی کی لیکچرر ہیں۔

💕 General knowledge Interesting information 🍄 جنرل نالج دلچسپ معلومات 🍄


💕 جنرل نالج دلچسپ معلومات 🍄🌷
جنرل نالج دلچسپ معلومات
سوال1: ایسا کون سا جانور ہے جس کے دانت ساری عمر بڑھتے رہتے ہیں؟
جواب: ہاتھی اور چوہا

سوال 2: وہ کون سا جانور ہے جو ناک اور منہ کے علاوہ کھال سے بھی سانس لیتا ہے؟
جواب: مینڈک

سوال 3: وہ کون سا ملک ہے جہاں پیدا ہوتے ہی بچے کی عمر نو ماہ لکھ دی جاتی ہے؟
جواب: جاپان

سوال 4: وہ کون سا پتھر ہے جو پانی میں نہیں ڈوبتا؟
جواب: جھاواں پتھر

سوال 5: کس درخت کی جڑیں سب سے زیادہ گہری ہوتی ہیں؟
جواب: جنگی انجیر کی

سوال 6: دنیا کا سب سے بڑا صنعتی شہر کون سا ہے؟
جواب: شنگھائی

سوال7: دریاؤں کا مالک کس ملک کو کہا جاتا ہے؟
جواب: بنگلہ دیش

سوال8: سب سے پہلے نوٹوں کا آغاز کس ملک سے ہوا؟
جواب: چین

سوال9: دنیا میں سب سے بڑی سونے کی کانیں کہاں ہیں؟
جواب: جنوبی افریقہ کے شہر جوہنس برگ میں

سوال10: دنیا کے کس ملک کے ہر مرد اور عورت پڑھے لکھے ہیں؟
جواب: ڈنمارک

سوال11: بھیڑیا کس ملک کا قومی نشان یے؟
جواب: ترکی

سوال12: دنیا میں سب سے زیادہ بکنے والی کون سی چیز ہے؟
جواب: سگریٹ

سوال 13: وہ کون سا جاندار ہے جس کے دو دماغ ہوتے ہیں؟
جواب: بندر

سوال14: دنیا کی سب سے بڑی معیشت کونسی ہے؟
جواب: امریکہ

سوال 15: وہ کون سا درخت ہے جس کا تنا بہت موٹا بھی ہو سکتا ہے مگر اس میں لکڑی نہیں ہوتی؟
جواب: کیلے کا...

💕 General knowledge Interesting information 🍄
Question 1: Which animal has its teeth growing throughout its life?
Answer: Elephant and mouse

Question 2: Which animal breathes through skin apart from nose and mouth?
Answer: Frog

Question 3: Which is the country where the child's age is recorded as nine months at birth?
Answer: Japan

Question 4: Which is the stone that does not sink in water?
Answer: Stone

Question 5: Which tree has the deepest roots?
Answer: Of war figs

Question 6: Which is the largest industrial city in the world?
Answer: Shanghai

Question 7: Which country is called the owner of rivers?
Answer: Bangladesh

Question 8: From which country did the notes first start?
Answer: China

Question 9: Where are the biggest gold mines in the world?
Answer: In Johannesburg, South Africa

Question 10: In which country of the world are every man and woman educated?
Answer: Denmark

Question 11: Wolf is the national symbol of which country?
Answer: Turkey

Question 12: Which is the most sold item in the world?
Answer: Cigarettes

Question 13: Which organism has two brains?
Answer: Monkey

Question 14: Which is the largest economy in the world?
Answer: America

Question 15: Which is the tree whose trunk can be very thick but does not contain wood?
Answer: Banana...

دلچسپ اور حیرت انگیز معلوماتInteresting and amazing information

  

دلچسپ اور حیرت انگیز معلومات

 1۔کیا آپ اللہ کی قدرت کے مظہر” انسانی جسم “کے متعلق یہ حیرت انگیز بات جانتے ہیں۔کہ انسانی جسم میں موجود خون کی نالیوں کی مجموعی لمبائی 60 ہزارمیل کے برابر ہے۔
 2۔سام سانگ کوریائی زبان کے دو لفظوں کا مجموعہ ہے سام اورسانگ ۔سام کا مطلب” تین” اور سانگ کا مطلب “ستارے “ہے۔ یعنی تین ستارے
 3۔سمندر کی زیادہ سے زیادہ گہرائی تقریبا11 کلومیڑ (10923میڑ )ہے
 4۔دنیا میں بانوے فیصد لوگ گوگل کا استعمال اپنے اسپیلنگ چیک کرنے کے لئے کرتے ہیں۔اور پاکستان میں 80 فیصد لوگ گوگل کا استعمال اس لئے کرتے ہیں کہ پتہ چل سکے انٹرنیٹ چل رہا ہے کہ نہیں۔
 5۔مینڈک کی زبان میں تین گنا بڑا شکار دبوچنے کی طاقت ہوتی ہے
 6۔ اب تک کا خطرناک ترین ہوائی حادثہ 1977 میں ہوا ۔اور اس حادثے میں583 لوگ موت کا شکار ہوئے تھے۔
 7۔افریکی ہاتھی دنیا کا تیسرا سب سے وزنی جانور ہے۔۔ اس کا وزن 13000 کلو گرام تک ریکارڈ کیا گیا ہے۔
 8 ۔ دنیا کی تقریباً آدھی آبادی صرف پانچ ممالک چین، بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش اور انڈونیشیا میں رہتی ہے
 9۔ نابینا افراد ہماری طرح خواب نہیں دیکھتے۔
 10۔ مچھلی کی آنکھیں ہمیشہ کھلی رہتی ہیں کیونکہ اس کے پپوٹے نہیں ہوتے۔
 11۔ الو وہ واحد پرندہ ہے جو اپنی اوپری پلکیں جھپکتا ہے۔ باقی سارے پرندے اپنی نچلی پلکیں جھپکاتے ہیں۔
 12۔کیا آپ بحیرہ مردار کے متعلق یہ دلچسپ بات جانتے ہیں کہ اگر آپ اس سمندر میں گر بھی جائیں تو بھی آپ اس میں نہیں ڈوبیں گے۔
 13۔ پاکستان کا “مکلی قبرستان، ٹھٹھہ ” جو کے مسلمانوں کا سب سے بڑا قبرستان ہے۔جہاں ایک ہی جگہ پر لاکھوں مسلمان دفن ہیں ۔یہ قبرستان 6 میل کے طویل ایریا میں پھیلا ہوا ہے۔
 14۔عدد کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا نوٹ زمبابوے نے 2009 میں جاری کیا تھا جو کہ 100ٹریلین ڈالر یعنی100 کھرب زمبابوے ڈالرکا تھا۔
 15۔ کیا آپ شیروں کے بارے یہ دلچسپ بات جانتے ہیں کہ شیر کے بچے جب اپنے والدین کو کاٹتے ہیں تو وہ اکثر رونے کی ایکٹنگ کرتے ہیں۔
 16۔کیا آپ جانتے ہیں کہ قادوس نامی پرندہ اڑتتے اڑتے بھی سو جاتا ہے یا سو سکتا ہے۔
 17۔بچھو چھے دن تک اپنا سانس روک سکتا ہے۔بچھو پانی کی تہہ میں سانس نہیں لے سکتا لہذا وہ اپنا سانس روک لیتا بھلے اسے چھے دن وہاں پڑا رہنے دو۔ وہ سانس نہیں لے گا لیکن زندہ رہے گا۔
 18۔ایک روسی خاتون “مسٹرس وسیلائیو “کے ایک ہی خاوند سے چالیس سال کے دورانیے میں یعنی سنہ1725ء سے 1765ءکے عرصہ کے دوران 69 بچے پیدا ہوئے
 19۔مراکش کے سلطان إسماعيل بن الشريف ابن النصر جس نے مراکش پر 1672ء سے 1727ء تک 55 سال حکومت کی تھی ۔ اس کے مختلف بیویوں اور باندیوں (کنیزوں) سے 525 بیٹے اور 342 بیٹیاں تھیں۔
 20.بچھو چھے دن تک اپنا سانس روک سکتا ہے۔بچھو پانی کی تہہ میں سانس نہیں لے سکتا لہذا وہ اپنا سانس روک لیتا بھلے اسے چھے دن وہاں پڑا رہنے دو۔ وہ سانس نہیں لے گا لیکن زندہ رہے گا۔

آپ کو کونسی معلومات سب س
ے زیادہ دلچسپ و عجیب لگی
۔You know this amazing thing about the "human body", the manifestation of God's power. The total length of the blood vessels in the human body is equal to 60 thousand miles.
2. Sam Song is a combination of two Korean words Sam and Sang. Sam means "three" and Sang means "stars". That is three stars
3. The maximum depth of the sea is about 11 kilometers (10923 meters).
4. Ninety-two percent of people in the world use Google to check their spelling. And 80 percent of people in Pakistan use Google to check whether the Internet is working or not.
5. The frog's tongue has the power to catch prey three times larger
6. The most dangerous air accident ever happened in 1977 and 583 people died in this accident.
7. The African elephant is the third heaviest animal in the world. Its weight has been recorded up to 13000 kg.
8. Almost half of the world's population lives in just five countries: China, India, Pakistan, Bangladesh and Indonesia
9. Blind people do not dream like we do.
10. A fish's eyes are always open because it has no eyelids.
11. The owl is the only bird that blinks its upper eyelids. All other birds blink their lower eyelids.
12. Do you know this interesting fact about the Dead Sea that even if you fall into this sea, you will not drown in it.
13. Pakistan's "Mukli Graveyard, Thatta" is the largest Muslim graveyard in Pakistan. Millions of Muslims are buried in one place. This graveyard is spread over an area of 6 miles long.
14. In terms of numbers, the world's largest note was issued by Zimbabwe in 2009, which was 100 trillion dollars, i.e. 100 trillion Zimbabwean dollars.
15. Did you know this interesting fact about tigers is that tiger cubs often act out crying when they bite their parents.
16. Do you know that the bird named Kadus sleeps or can sleep even while flying?
17. A scorpion can hold its breath for six days. A scorpion cannot breathe under water, so even if it holds its breath, let it lie there for six days. He will not breathe but live.
18. A Russian woman "Mrs. Vasileva" had 69 children from the same husband in a period of forty years, i.e. from 1725 to 1765.
19. Ismail bin al-Sharif bin al-Nasr, the Sultan of Morocco, who ruled Morocco for 55 years from 1672 to 1727. He had 525 sons and 342 daughters from his various wives and concubines.
20. A scorpion can hold its breath for six days. A scorpion cannot breathe under water, so even if it holds its breath, let it remain there for six days. He will not breathe but live.
What information did you find most interesting and strange?


Wednesday, 6 December 2023

A simple recipe for unclogging blood vessels

خون کی بند رگوں کو کھولنے کا آسان نسخہ
جسم میں کوئی بھی رگ بند ہوتو کھل جائے گی،پیروں سے لے کر سر تک
 اس سے آپ کسی بھی قسم کی بند رگ کو صحیح کر سکتے ہیں، چاہے وہ جسم کی کوئی بھی رگ ہو۔ اگر جسم کی کوئی بھی رگ بند ہوجائے تو انسان کو بری مصیبت کا سامنا کرنا پڑتا ہےاور بے چین رہتا ہے۔ 
اس نسخے کو استعمال کرنے کے بعد انشاءاللہ آپکی تمام بند رگیں دوبارہ سے نارمل ہوجائیں گی۔ اس نسخے کو بنانے کے لئے ہمیں جو چیزیں چاہئیں وہ یہ ہیں۔,,,
ھوالشافی۔
دال چینی10گرام, کالی مرچ 10 گرام
مغز تخم خربوزہ 10 گرام, السی کے بیج 
10 گرام, تیز پتہ :10 گرام, 
مغز اخروٹ 10 گرام, مصری 10 گرام
سب اشیاءکو بلینڈر میں ڈال کر پاﺅڈر بنالیں اور اس کی دس پُڑیاں بنالیں۔ دوا کی دوا اور خوراک
ترکیب طریقہ استعمال۔،۔ 
ایک پڑی روزانہ صبح خالی پیٹ نیم گرم پانی سے لینی ہے۔ اور ایک گھنٹے تک کچھ بھی نہیں کھانا ہے۔ 
آپ چائے پی سکتے ہیں۔ 
دل کے مریض یاد رکھیں یہ نسخہ استعمال کرتے رہیں گے تو گارنٹیڈ انشاءاللہ تعالی پوری زندگی ہارٹ اٹیک یا لقوہ نہیں ہوگا انشاءاللہ
A simple recipe for unclogging blood vessels
If any vein in the body is blocked, it will open, from the feet to the head
  With this you can correct any type of blocked vein, no matter what vein it is in the body. If any vein of the body gets blocked, the person has to face bad trouble and remains restless.
After using this recipe, inshallah all your blocked veins will be normal again. Here are the things we need to make this recipe:
ventilation
Dal sugar 10 grams, black pepper 10 grams
Melon seeds 10 grams, linseeds
10 grams, Quick address: 10 grams,
Nuts Walnut 10 grams, Egyptian 10 grams
Put all the ingredients in a blender to make a powder and make ten balls of it. Medicine and food
Use the synthesis method.
One drop should be taken daily in the morning on an empty stomach with lukewarm water. And don't eat anything for an hour.
You can drink tea. 
Heart patients should remember that if you continue to use this recipe, you will not have a heart attack or stroke for the rest of your life, inshallah.

Tuesday, 5 December 2023

سٹیرائڈز_کی_سادہ_سی_باتیں (Steroids)

سٹیرائڈز_کی_سادہ_سی_باتیں (Steroids)

پہلے ہم steriod کی کیمسٹری کی بات کرتے ہیں۔ steriods، فیٹ کی ایک قسم ہے اور کولیسٹرول سے بنتے ہیں، باقی فیٹ کے مالیکولز کے برعکس ان کا مالیکول ring form میں ہوتا ہے، ایک عام steriod کے مالیکول میں 17 کاربن atoms ہوتے ہیں جو کہ 4 rings میں ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں۔ مختلف steriods پر مختلف functional groups لگے ہوتے ہیں جس سے انکی مختلف پراپرٹیز سامنے آتی ہیں۔ 
اب steriods کی بیالوجی کی بات کریں تو steriods تقریباً ہر سیل میں ہی پائے جاتے ہیں، مگر انکا main کام ہارمون کے طور پر ہے۔ ہمارے جسم میں 3 قسم کے ہارمونز ہوتے ہیں
1- پروٹین سے بنے ہوئے
2- امائین (amine) سے بنے ہوئے
3- سٹیروئڑ (steriods) سے بنے ہوئے
تقریباً تمام جنسی ہارمونز (sex hormones) سٹیروئڈ ہوتے ہیں، جیسے کہ مردوں کا بنیادی اور main جنسی ہارمون "ٹیسٹوسٹیرون" steriod ہے اور اس ٹیسٹوسٹیرون سے بننے والے مردوں کے دوسرے ہارمونز بھی steriods ہوتے ہیں۔ اسی طرح عورتوں کے بنیادی اور main جنسی ہارمون بھی steriods ہیں جیسے کے progesterone اور estrogen وغیرہ۔ جنسی ہارمونز کے علاؤہ کچھ اور ہارمونز بھی ہوتے ہیں جو کہ steriods ہیں، ان میں adrenal gland کے کچھ ہارمونز شامل ہیں جن میں mineralocorticoid، glucocorticoids اور adrenal gland  میں بننے والے مردانہ ہارمون (androgens)
اس کے علاؤہ steriods کی ایک خاص قسم ہے جسے corticosteroids کہتے ہیں، یہ جسم میں ہونے والی inflammation کو روکتی ہے۔ inflammation کیا ہے؟ جب کسی جگہ چوٹ سے، یا کسی بیماری سے ، یا کسی الرجی کی وجہ سے جسم کے اس حصے کی رگیں پھیل جاتی ہیں، خون وہاں پر اکھٹا ہوجاتا ہے، وہ حصہ گرم ہوجاتا ہے اور وہاں سوزش اور درد ہوتا ہے اس سارے عمل کو ہم inflammation کہتے ہیں۔ corticosteroids اس inflammation کو کم کرتے ہیں
اس ساری بات بتانے کا مقصد یہ ہے کہ ہم جسم میں steriods کا role دیکھیں۔ سو ہم نے steriods کے دو رول دیکھے 
👈 بطور مردانہ ، زنانہ جنسی ہارمون
👈 بطور anti inflammatory (یعنی inflammation کو روکنے اور کم کرنے والا) 
اور انہیں دو مقاصد کے لیے دوائی کی صورت میں باہر سے جسم کو steriods دیے جاتے ہیں 
پہلے مقصد کی بات کریں جس میں steriods بطور جنسی ہارمونز کے دیا جاتا ہے۔ جس طرح باڈی بلڈرز مردانہ ہارمون "ٹیسٹوسٹیرون" لیتے ہیں کیونکہ مسلز کو بڑا کرنے میں ٹیسٹوسٹیرون کا کردار ہوتا ہے۔ البتہ ان anabolic steroids کا دیر پا استعمال اور over dose دل، دماغ، گردوں اور جگر کے مسائل کی وجہ بنتا ہے اور پھر آئے روز جوان باڈی بلڈرز کی موت کی خبر ملتی ہے۔
اب دوسرے مقصد کی بات کریں یعنی steriods بطور anti inflammatory استعمال کرنے کے لیے  تو اس کے لیے بھی steriods drugs استعمال کی جاتی ہیں جن میں  glucocorticoids ہوتے ہیں، ان ادویات میں methylprednisolone اور Prednisolone وغیرہ شامل ہیں 
جو کہ مختلف brand names کے ساتھ بازار میں موجود ہیں
Simple things about steroids (Steroids)
First let's talk about the chemistry of steriod. Steroids are a type of fat and are made from cholesterol. Unlike other fat molecules, their molecules are in ring form. A typical steroid molecule has 17 carbon atoms linked together in 4 rings. are Different steriods have different functional groups, which brings out their different properties.
Now talking about the biology of steroids, steroids are found in almost every cell, but their main function is as hormones. There are 3 types of hormones in our body
1- Made of protein
2- Made of amine
3- Made from steroids
Almost all sex hormones (sex hormones) are steroids, such as the main male sex hormone "testosterone" is a steroid and other male hormones made from this testosterone are also steroids. Similarly, the main sex hormones of women are steroids such as progesterone and estrogen. In addition to sex hormones, there are other hormones that are steroids, including some hormones of the adrenal gland, including mineralocorticoid, glucocorticoids and male hormones (androgens) produced in the adrenal gland.
In addition, there is a special type of steriods called corticosteroids, which prevent inflammation in the body. What is inflammation? When the veins of that part of the body are dilated due to an injury, or an illness, or an allergy, the blood collects there, the part becomes hot, and there is inflammation and pain throughout the process. We call it inflammation. Corticosteroids reduce this inflammation
👈 As a male, female sex hormone
👈 as anti-inflammatory
And they are given steriods externally in the form of medicine for two purposes
First let's talk about the purpose for which steriods are given as sex hormones. Just like bodybuilders take the male hormone "testosterone" because testosterone plays a role in building muscles. However, prolonged use of these anabolic steroids and over dose causes heart, brain, kidney and liver problems and then there are news of death of young bodybuilders every day.
Now let's talk about the second purpose, that is, to use steriods as anti-inflammatory, steriods drugs are also used for this, which contain glucocorticoids, these drugs include methylprednisolone and prednisolone etc. which are in the market with different brand names. are present

The purpose of telling all this is to see the role of steroids in the body. So we saw two rolls of steriods

Xxxxxxx

    انجواۓ کلک Enjoyment click Today enjoy click So enjoy your life